نوازشریف کی جائیداد اور اثاثوں کی ضبطگی پر29 اکتوبر تک عملدرآمد کا حکم
اسلام آباد:سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد اور اثاثوں کی ضبطگی پر عملدرآمد نہ ہوسکا، احتساب عدالت نے 29 اکتوبر تک عملدرآمد کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اصغرعلی نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی،سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور خواجہ انور مجید پیش نہ ہوئے۔
نیب کی جانب سے نوازشریف کی جائیداد ، کمپنیوں میں شیئرز ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کردی گئی۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ نواز شریف کی جائیداد اور اثاثوں کی ضبطگی پر عملدرآمد جاری ہے،ایک نجی بینک کی برانچ کسی اورجگہ منتقل ہو گئی ،خط پہنچ نہیں سکا۔
احتساب عدالت نے نجی بینک کے ہیڈآفس کے پتے پر خط دوبارہ ارسال کرنے کاحکم دے دیا۔
عدالت نے نوازشریف کے اثاثوں کی ضبطگی پر 29 اکتوبر تک عملدرآمد کا حکم دے دیا۔
دوران سماعت آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور انور مجید کے وکلا ءنے اپنے موکلان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں پیش کی۔
عدالت نے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔