موٹروےزیادتی کیس:ملزم عابد نے پولیس کو واردات کی تمام کارروائی سے آگاہ کردیا
لاہور:موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد نے پولیس کو واردات کی تمام کارروائی سے آگاہ کردیا ،بیان میں کہا کہ شفقت کے ہمراہ موٹروے پر گھات لگائے بیٹھا تھا، کار کا شیشہ توڑ کر بچوں کو گاڑی سے نکال کر سڑک سے نیچے لے گئے تو خاتون بچوں کو بچانے آگئی، جہاں اسے ذیادتی کا نشانہ بنایا۔
لاہور سیالکوٹ موٹروے زیاتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے تفتیشی ٹیم کو بیان ریکارڈ کرادیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق عابد نے بتایا کہ شفقت کے ہمراہ موٹروے پر گھات لگائے بیاھ تھا، سڑک پر کھڑی گاڑی سے مثاثرہ خاتون کو نکلے کا کہا لیکن وہ نہ نکلی، شیشہ توڑ کر اسلحہ کے زور پر بچوں کو گاڑی سے نکال کر نیچے لے گئے تو خاتون بچوں کی خاطر موٹروے سے نیچے گھاٹی میں اتر آئی، جہاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے اس کے والد کے گھرکے اندر لیڈی کانسٹیبل سمیت 2 اہلکار تعینات کررکھے تھے،سامنے والا گھر پولیس نے کرائے پر لے رکھا تھا جہاں 2 اہلکار رہتے تھے،جبکہ 2 اہلکاروں نے گلی میں فروٹ اور سٹے کی ریڑھی بھی لگا رکھی تھی۔
ملزم کے والد اور بیوی کو پولیس حراست سے چھوڑنا پلان کا حصہ تھا،ملزم عابد نے گرفتاری سے ایک روز قبل ملزم عاید نے فیصل آباد سے چوری کردہ فون سے اپنے والدسے رابطہ کیااوربیوی کی گھر میں موجودگی کا پوچھا،پولیس کے کہنے پر والد نے عابد کو اس کی بیوی کے گھر میں موجود ہونے کا کہا۔
عابد نے چوری شدہ فون پھینک دیا اور صبح 7 بجے مانگا منڈی پہنچا،جہاں گلی میں اجنبی افراد کو دیکھ کر شام 6 بجے تک گنے کے کھیت میں چھپا رہا،اندھیرا ہوتے ہی عابد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا تو اہلکاروں نے پکڑ لیا،لاہور سے مانگا منڈی ٹیم پہنچے تک پولیس نے مقامی زمیندار سے بھی مدد لی۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال بالا مستری نے عابد کو اطلاع کی کہ اس کی تصاویر ٹی وی پر چل رہی ہے، جس کے بعد وہ گرفتاری سے بچنے کیلئےٹھکانے بدلتا رہا۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ عابد ملہی فورٹ عباس، چنیوٹ، مانگا منڈی سمیت مختلف اضلاع میں گیا، عابد کئی روز تک چنیوٹ میں ایک زمیندار کے ڈیرے پر مزدوری کرتا رہا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔