Aaj TV News

BR100 4,671 Increased By ▲ 6 (0.13%)
BR30 18,834 Increased By ▲ 160 (0.86%)
KSE100 45,369 Increased By ▲ 297 (0.66%)
KSE30 17,576 Increased By ▲ 146 (0.84%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,254 414
DEATHS 28,737 9
Sindh 475,820 Cases
Punjab 443,185 Cases
Balochistan 33,484 Cases
Islamabad 107,722 Cases
KP 180,075 Cases

گزشتہ روز میکسیکو کانگریس میں تاریخی ووٹ کو 70 سالوں میں پہلی بار بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ملک کی سرکاری سطح پر چلانے والی تیل کی صنعت کو کھولنے کے بعد پرجوش بحث ہوئی۔ لیکن اس بحث کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال سامنے آگئی جب ایک پارلیمنٹرین نے دوران تقریر جذبات میں آکر کر اپنے سارے کپڑے اتارے دیے۔

بائیں بازو کی ڈیموکریٹک انقلاب پارٹی کے ایک رکن انٹونیو گارسیا کونجو بدھ کے روز ایک تقریر کے دوران اپنے زیر جامے کے علاوہ تمام کپڑے اتارے دیئے، تاکہ ان کے اس دعوے کو ڈرامہ کیا جائے کہ یہ قانون ’قوم کی لوٹ مار‘ ہے۔

میکسیکو پارلیمنٹ میں ووٹ کے ذریعے حکومت نجی غیر ملکی اور ملکی کمپنیوں کو تیل اور گیس کی تلاش اور اس کی کھدائی کرنے کے لئے معاہدے اور لائسنس دینے کی اجازت دے گی ، جو اب تک میکسیکو کے آئین کے تحت ممنوع تھے۔

اس قرارداد کے حق میں 353 ووٹ آئے جبکہ اس کی مخالفت میں 153 ووٹ آئے۔ اس قانون کی منظوری کے لئے میکسیکو کی 31 میں سے 17 سٹیٹس میں ووٹ درکار ہیں جو متوقع طور پر مل جائیں گے۔

1938 میں حکومت نے غیر ملکی تیل کمپنیوں کے کام سنبھالنے کے بعد سے لیکر اب تک سرکاری تیل کی کمپنی پیٹرویلوس میکسیکو یا پیمیکس کی اجارہ داری رہی ہے، جو اس اقدام کے بعد سے ہی قومی خودمختاری کی علامت کے طور پر تعظیم کی جاتی رہی ہے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ ملٹی نیشنلز ، خاص طور پر امریکہ 1938 سے پہلے ایک بار پھر میکسیکو کے تیل پر اس طرح کے تسلط کو دوبارہ حاصل کرلیں گے۔

بائیں بازو کے قانون سازوں نے بدھ کے روز ایوان نمائندگان کے مرکزی چیمبر پر قبضہ کرکے کرسیوں اور میزوں کے ذریعہ رسائی کو روکنے کے ذریعہ اس اقدام کی بحث کو روکنے کی کوشش کی۔