مصطفیٰ کمال کا حلف نامہ جھوٹا نکلا تو نتائج خطرناک ہوں گے،الیکشن کمیشن

کراچی :الیکشن کمیشن نے سابق سٹی ناظم اور پاک سرزمین پارٹی کے...
شائع 14 اکتوبر 2020 12:17pm

کراچی :الیکشن کمیشن نے سابق سٹی ناظم اور پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کی نااہلی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ مصطفیٰ کمال کا حلف نامہ جھوٹا نکلا تو نتائج خطرناک ہوں گے ، عدالتی احکامات پرعملدرآمد کرانے کے پابند ہیں، عدالت جو حکم جاری کرے عملدرآمد کریں گے۔

سندھ ہائیکورٹ میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزارسلمان مجاہد بلوچ کامؤقف تھا کہ مصطفیٰ کمال 1994سے 2002تک کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں ملازمت کرتے تھے، مستقل غیرحاضری اور مس کنڈکٹ پر مصطفیٰ کمال کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔

درخواست گزارکا یہ بھی کہنا تھاکہ قانون کے مطابق ملازمت سے برطرف شخص کسی عوامی عہدے یا الیکشن لڑنے کیلئے نااہل ہوتا ہےلیکن اس کے باوجود مصطفیٰ کمال نے پی ایس ایک سو سترہ اورسٹی ناظم کیلئے الیکشن لڑا۔

سلمان مجاہد بلوچ نے درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ مصطفیٰ کمال کا الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی بدنیتی اورجھوٹ پر مبنی تھے۔

درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی کہ مصطفیٰ کمال سے تنخواہیں اورمراعات واپس لی جائیں،مصطفیٰ کمال کو پی ایس پی چیئرمین کی حیثیت سے بھی کام سے روکا جائے۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن نے سابق سٹی ناظم کراچی اور پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی نااہلی سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کرادیا ، جس میں بتایا گیاکہ اگر مصطفٰی کمال کا حلف نامہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو اس کے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نےاپنے تحریری جواب میں یہ بھی کہا کہ مصطفیٰ کمال نے 2002اور2005کے انتخابات میں حصہ لیا ،الیکشن کمیشن عدالتی احکامات پرعملدرآمد کرنے کا پابند ہے، عدالت جو حکم جاری کرے عملدرآمد کریں گے۔

سندھ ہائیکورٹ نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18نومبر تک ملتوی کر دی۔