Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 325,480 736
DEATHS 6,702 10

گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے خطاب کیا۔

گوجرانوالہ میں اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ ہوا۔

جلسے سے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں وہ راستے سے گزری ہر طرف گونیازی گو کا نعرہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت گجرانوالہ جلسے سے خوف میں مبتلا تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ نہ ن لیگ نہ اپنا مقدمہ لے کر آئی ہوں بلکہ وہ اس ماں کا مقدمہ لے کر آئی ہیں جو کو بھوک کا سامنا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ عوام کے سامنے میڈیا کا مقدمہ لے کر آئی ہیں جن کو خاموش کروانے کیلئے نوکری سے نکلوا دیا گیا۔

مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ آئین کا مقدمہ ان کو سمجھ آتا ہے یا نہیں آتا ، ووٹ چوری کا مقدمہ سمجھ آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہونا چاہیئے۔

انہوں نے آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کا سوال بھی اٹھایا۔ انہوں نےعوام سے وعدہ لیا کہ جب وہ باہر نکلیں گی تو یہ لوگ ان کا ساتھ دینگے۔

انہوں نے پی ڈی ایم کے کامیاب جلسے پر بھی مبارک باد دی۔

بعدازاں پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ابتداء میں بھٹو کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ تبدیلی یہ ہے کہ ملکی معیشت پہلی مرتبہ بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔

انہوں نے ملک میں اشیاء و خوردونوش کی بڑھتی قیمتوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اب نوجوان ڈگری لے کر گھوم رہے ہیں لیکن ان کو روزگار نہیں مل رہا ۔

بلاول کا کہنا تھا کہ تاجروں کی تجارت بند، ملوں والی کی مل بند ، یہ کیسی تبدیلی ہے ہر طرف بحران ہی بحران ہے۔

بلاول نے اس موقعے پر اپنی حکومت کے دوران لیے گئے معاشی اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا کہ نوکریاں دوں گا، بے روزگار کردیا، قرض نہیں لوں گا لیکن قرض لیا۔

بلاول نے اس موقعے پر حکومت پر بھی کرپشن کا الزام لگایا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ یہ کرپٹ ہیں تو احتجاج کررہے ہیں تو کیا تاجر کرپٹ ہیں، ینگ ڈاکٹرز کرپٹ ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کرپٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کرپٹ ہے۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اب وقت آچکا ہے اور اب عمران خان کو گھبرانا ہے۔

اس موقعے پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب موجودہ حکمران ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو بھی جعلی قرار دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی حکمران اب اپنے اختتام پر پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جمہوریت کی صبح طلوں ہونیوالی ہے۔ اور اب جمہوریت پسند قوتوں تحریک کا آغاز کررہی ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ اب عوام کا سمندر مختلف شہروں میں آئیگا،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب حکومت دسمبر نہیں دیکھے گی۔ انکی ہمت جواب دے چکی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سلیکٹرز بھی اسکی کارکردگی پر شرمندہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اس وقت خوشیاں منائی گئیں جب ملک میں جمہوریت کا خون ہوا تھا۔تاہم آج پاکستان میں کشمیر، جمہوریت کی بات کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے دباو پر قانون سازی کی ہے، بجٹ آئی ایم ایف نے تیار کروایا ہے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ پاکستان کے نمائندے نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے پر آئے ہیں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ ان اسلاف سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے برصغیر کی آزادی کیلئے قربانی دی تھی۔ ہم پاکستانی سیاست کو مقید نہیں دیکھنا چاہتے۔

جلسہ گاہ میں پارٹی ترانوں کی گونج رہی۔اس سے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نےملک سےاندھیروں کاخاتمہ کیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں دہشت گردی پرقابوپایاگیا، حکومت نے500ارب روپےدہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیلئےدیا، ہمارےدورمیں چینی50سے52روپے فی کلوملتی تھی، 50روپےکلوچینی اور32روپےکلوآٹادینےوالاآج چورہوگیا ہے۔

لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دورمیں بھارت نےکشمیرکواپناحصہ بنالیا ہے، بھارت کوپہلےکسی دورمیں ایسااقدام اٹھانےکی ہمت نہیں ہوئی، یہ لوگ ہمیں غداری کاسرٹیفکیٹ دےرہےہیں، عمران خان نیازی نےسی پیک کوتعطل کاشکارکردیاہے۔

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پرمتحدہیں۔

اس موقعے پرخواجہ آصف نے کہا کہ ہم پرمسلط شخص کی حکومت کےخاتمےکاوقت آگیا ہے،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نےکہاتھاکہ500لوگوں نےگوعمران گوکہاتواستعفادےدونگا۔ آج500نہیں کئی ہزار افراد گوعمران گوکہہ رہےہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ عوامی سیلاب اسلام آباد جائےگااورعمران خان کواقتدارسےاتاریں گے، عمران خان کےسپورٹراورووٹر کیلئےبھی باعث شرم بن گئےہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہےہیں،2وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں آئین اورقانون کی حاکمیت چاہتےہیں۔

جلسہ گاہ سے دیگر رہنماوں کا خطاب بھی جاری ہے۔