Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,744 667
DEATHS 6,692 19

کراچی :سانحہ کارساز کراچی کو 13سال بیت گئے، دردناک واقعے میں پیپلزپارٹی کے 177کارکنان اور ہمدرد شہید ہوئے،سانحے میں ملوث افراد کو آج بھی قانوں کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔

اٹھارہ اکتوبر2007کو بے نظیر بھٹو 8سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد کراچی پہنچیں،ایئر پورٹ سے قافلہ بلاول ہاؤس کی جانب رواں تھا کہ رات 12بج کر 52منٹ کی منحوس گھڑی آ گئی،یکے بعد دیگرے ہونے والے 2دھماکوں میں 20سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 177افراد شہید اور 500سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

بے نظیر بھٹو نے واقعے میں القاعدہ ، لال مسجد کے عسکریت پسندوں اور جنداللہ کو سانحہ کارساز میں ملوث قرار دیا جبکہ اس وقت کے حکومتی اداروں نے القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کو دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا جو بعد میں ڈرون حملوں میں مارے گئے۔

سانحہ کارساز کے بہادر آباد تھانے میں 2مقدمات درج کئے گئے، ایک مقدمہ سرکار کی مدعیت میں جبکہ دوسرا خود بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والا مقدمہ سی آئی ڈی منتقل ہونے کے بعد اے کلاس کرکے بند کر دیا گیا جبکہ بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے کو سی کلاس کرکے نظر انداز کر دیا گیا۔

آج سانحہ کار ساز کو13برس بیت گئے ،سانحے میں ملوث افراد کو آج بھی قانوں کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا، پیپلزپارٹی کی قیادت آج بھی سانحہ کار ساز پر اُس وقت کی مشرف حکومت کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

جیالے اور پیپلز پارٹی کے رہنما آج سانحہ کار ساز کے غم میں یادگار شہدا پرشہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں ۔