پنجاب:گردوں کے امراض میں اضافہ

پنجاب میں جس تیزی سے گردوں کے امراض بڑھ رہے ہیں اتنی ہی لمبی قطار...
شائع 18 نومبر 2020 07:05pm

پنجاب میں جس تیزی سے گردوں کے امراض بڑھ رہے ہیں اتنی ہی لمبی قطار ڈائیلسز کروانے والوں کی ہے۔ انتظار کرتے تیس فیصد افراد دم بھی توڑ جاتے ہیں.

ڈاکٹرز کہتے ہیں مریض بروقت علاج شروع کریں تاکہ ڈائیلاسیز سے بچاجاسکے۔

کڈنی فیلیئر یا گردوں کی ناکامی خون کےاضافی مائع مادوں ، معدنیات اور فالتو اجزا کو الگ کرنے کی صلاحیت کھو دینے کانام ہے جس کے بعد ڈائیلسز ہی آخری حل ہے۔جہاں مریضوں کو لمبا انتطارکرنا پڑتا ہے۔

پنجاب میں مریضوں کی کل تعداد اور سینٹرز سے متعلق سرکاری اعدادوشمار بھی کوئی نہیں ۔اپنی جمع پونجی لگا کربھی ہزاروں کی تعداد میں مریضوں کی زندگی اور صحت یابی کی امیدیں کم ہوتی جارہیں۔

لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میں شعبہ نیفرالوجی اور یورولوجی موجود ہے۔

نجی ادارے بھی ڈائیلسز کی سہولت مہیا کرتے ہیں جس کے لیے بھاری بھرکم رقم بھی اداکرنی پڑتی ہےمگر اسی وارڈ میں آنے کے لیے چھ ماہ سے ایک سال تک کا لمبا انتظار ہے میو ہسپتال کے شعبہ نیفرالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فضل کہتے ہیں انتظار کرنے والوں کی شرح اموات تیس سے پینتس فیصد ہے مریض بروقت چیک اپ کروائیں تاکہ ڈائیلسیز کی نوبت نہ آئے۔

دوہزارچودہ کےغیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پنجاب میں تقریبا چوالیس سے زائد سینٹر ہیں جن میں چارسو پندرہ مشینوں پر دوہزارپانچ سوترانوے مریضوں کو ڈائیلسز کی سہولت ملتی ہے اور باقی ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج کے ہی منتظر ہیں۔