وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ: مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
شائع 05 مئ 2026 09:02am

امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا۔

اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے۔

میتھیو کوئن کے مطابق جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کوئن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا۔

اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے کا تعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان لینے کی حالیہ کوششوں سے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹ ایسوسی ایشن کے عشائیے پر ہونے والی فائرنگ کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔ اس وقت ڈی سی پولیس ڈیپارٹمنٹ اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہا ہے۔