وزیر اعظم عمران خان کا پہلا دورہ کابل، افغانستان سے کیا مطالبہ ہو گا؟

گذشتہ ہفتے 14 نومبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈی جی آئی ایس...
شائع 19 نومبر 2020 11:27am

گذشتہ ہفتے 14 نومبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کے پاس بھارت کے پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے ایک ڈوزیئر دکھایا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں ’بھارت کی جانب سے پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دینے کے شواہد موجود ہیں۔‘

اس کے بعد وزیر خارجہ نے پی فائیو کے ممالک (برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ) کے سفیروں کو اس حوالے سے بریفنگ اور ڈوزیئر بھی دیے۔

واضح رہے کہ ڈوزیئرر میں یہ درج ہے کہ مبینہ طور پر بھارت کے افغانستان میں عبدالواحد اور عبدالقادر نامی سفارت کار براہ راست دہشت گردوں سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے 66 کیمپ افغانستان میں قائم ہیں۔

ڈوزیئر کے مطابق بھارت کے سفارت خانے اور قونصل خانے پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث ہیں اور بھارت کے افغانستان میں سفیر اور جلال آباد میں قونصلر نے مبینہ طور پر کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بلوچ تنظیموں سے مالی امداد پر براہ راست رابطے کیے اور بھارتی شہری منمیت کے ذریعے بھاری رقم ڈالر میں افغانستان منتقل کی۔

حکومت کے مطابق ڈوزیئر میں شواہد دیے گئے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے پہلے بھی استعمال ہوئی اور اب بھی ہو رہی ہے۔

تاہم اس پیش رفت کے اگلے دن 15 نومبر کو افغانستان کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کا پاکستان کا الزام مسترد کرتے ہیں۔

ان تمام حالات میں وزیر اعظم کے ہمراہ پاکستانی انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے-

اعلیٰ سفارتی ذرائع نے تصدیق کی کہ دورے میں ’سب سے پہلا معاملہ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی وار پر بات چیت ہے اور شواہد افغان حکومت کو دیے جائیں گے تاکہ وہ ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کریں اور دونوں ممالک میں امن قائم کیا جا سکے۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے مزید بتایا کہ دورے میں مشترکہ معاشی مفادات اور افغانستان میں امن بحالی کے پراجیکٹس پر بھی بات چیت ہو گی۔ اس کے علاوہ افغان امن عمل کو نئی امریکی قیادت کے ساتھ آگے کیسے بڑھایا جائے گا یا اس میں پاکستان کیا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اس پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

وزات خارجہ کی جانب سے جاری آج کے شیڈیول میں تمام ملاقاتوں کے بعد کابل سے افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان مشترکہ پریس بریفنگ بھی کریں گے۔ دورہ ایک روزہ ہو گا اور وزیر اعظم سہ پہر تک ملک روانہ ہوں گے۔