رانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع
لاہور:قومی احتساب بیورو(نیب ) نے مسلم لیگ (ن)کے رہنماءرانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی،راناثناء اللہ اور ان کے گھرانے کی 24 پراپرٹیز سامنے آئیں۔
نیب کی جانب سے رانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کیخلاف 3 مختلف شکایات موصول ہوئیں، 3 دسمبر 2019 کو آمدن سے زائد اثاثوں کیخلاف انکوائری شروع کی گئی، انکوائری میں رانا ثناء اللہ اور ان کے گھرانے کی 24 پراپرٹیز سامنے آئیں ،جائیدادوں میں پلازے، کمپنیاں، گھر، فارم ہاؤسز اور زرعی زمین شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی جائیدادیں لاہور اور فیصل آباد میں واقع ہیں، رانا ثناء اللہ کی ایک پرائیویٹ لیمیٹڈ کمپنی آر ایس کے بھی ہے، رانا ثناء اللہ کے اثاثوں کی کل مالیت اربوں میں ہے۔
نیب نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہےکہ انکوائری میں پتہ چلا کہ اثاثوں کی اصل مالیت ظاہر نہیں کی گئی ،رانا ثناء اللہ نے 2015،16 اور 2017 میں مختلف سوسائٹیز میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کی، تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ن لیگی رہنماء نے اثاثوں کی جو مالیت ظاہر کی وہ مارکیٹ ویلیو سے کم ہے،رانا ثناءاللہ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔