نیب ملزمان کوہراساں اوراپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے،سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے...
شائع 03 دسمبر 2020 02:40pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ نیب ملزمان کوہراساں اوراپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے ،ہرریفرنس میں 90،90 روزکاریمانڈ توظلم ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نیب ملزمان کیخلاف ایک سے زائد ریفرنسزدائرکرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئےکہ نیب ملزمان کوہراساں اوراپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے ،وائٹ کالرکرائم میں تو دستاویزی شواہد دینا ہوتے ہیں،ہرریفرنس میں 90،90 روزکاریمانڈ توظلم ہے،نیب کو قانون کے ماتحت رہ کرہی فرائض سرانجام دینا ہیں۔

جسٹس مظاہرعلی نقوی نے ریمارکس دیئے کہ فوجداری مقدمات میں 40 روز سے زیادہ ریمانڈ نہیں مل سکتا، نیب کو ملزم کے 90 روز کے ریمانڈ کا اختیار تحقیقات مکمل کرنے کیلئے ہی دیا گیا،کیا تحقیقات کیلئے نیب افسر تربیت یافتہ نہیں؟،نیب تحقیقات مکمل کرکے ایک ہی ریفرنس کیوں داخل نہیں کرتا۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزمان کو گرفتار نہ کیا جائے تو وہ تعاون نہیں کرتے،لندن میں ایک اہم سیاسی شخصیت کخلا ف دو تین سال سے منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری ہیں،ٹرائل کورٹ کے پاس ریفرسز کو یکجا کرنے کا اختیار ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال کا کہ نا تھا کہ نیب کو اپنے اختیارات کو غیر جانبداری سے استعمال کرنا ہے۔

سپریم کورٹ نے فریقین کومعاملے پر تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر پراسیکیوٹرجنرل نیب کومعاونت کیلئے طلب کرلیا اورکیس سماعت جنوری تک ملتوی کردی۔