Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

لاہور: حال ہی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی "مینجمنٹ کے رویئے" سے تنگ آکر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے فاسٹ بولر محمد عامر ایک بار پھر قومی ٹیم کے کوچز پر برس پڑے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوچنگ کیلئے الگ مائنڈ سیٹ درکار ہوتا ہے جو مصباح اور وقار کے پاس نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں جو اچھا کپتان ہو وہ اچھا کوچ بھی ثابت ہو۔ وقار یونس لیجنڈری کھلاڑی اور مصباح الحق بہترین کپتان تھے مگر اچھے کوچ نہیں ہیں۔

فاسٹ بولر نے ایک بار پھر اپنی اُس بات کو دہرایا کہ میں موجودہ ٹیم مینجمنٹ کے ہوتے ہوئے کھیل ہی نہیں سکتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وقار یونس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "میں نے عامر کے کیس کو ایڈوکیٹ کیا تھا، اُن کی خاطر نجم سیٹھی سے لڑا اور کھلاڑیوں سے بات کی مگر جب انہوں نے الزامات لگائے تو خاصی تکلیف ہوئی تھی"۔ اس بات کا جواب دیتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہے لیکن مجھے نجم سیٹھی اور شاہد آفریدی نے ہی سپورٹ کیا تھا۔

محمد عامر نے مزید کہا کہ میں پرفارمنس کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوا ہی نہیں ہوں، لیگز اور ڈومیسٹک میں کارکردگی دکھا کر کم بیک بھی کرسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 5 سال سخت محنت کرتے ہوئے کم بیک کیلئے انتظار کیا ہے اور اب بھی صبر کرسکتا ہوں۔

عامر نے واضح کیا کہ میں نے انجریز کے باعث طویل فارمیٹ کو خیرباد کہا، مجھ سے کہا گیا کہ تینوں فارمیٹس کھیلنے والوں کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ ایک ایک فارمیٹ کھیلنے والوں کو بھی کنٹریکٹ دیئے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو آہستہ آہستہ سائیڈ لائن کرنا ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے، کوچز اپنی پرفارمنس بھی تو دیکھیں۔