Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں 8 گھنٹے کی کامیاب سرجری کے بعد 9 ماہ کے سینے سے جڑے ایان اور امان کو ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا، آغا خان کے سرجنز کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ سرجری تھی جس میں مختلف شعبہ جات نے حصہ لیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر ظفر نزیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل ترین سرجری تھی جس کی پلاننگ 2 ماہ سے جاری تھی، اس سرجری میں ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ ساتھ 60 سے زائد مختلف شعبہ جات کے طبی عملے نے حصہ لیا، ڈاکٹر ظفر کا کہنا تھا کہ پہلے بچوں کی مختلف تصاویر لے کر تھری ڈی امیج کے ذریعے سے جائزہ لیا گیا۔

آغا خان کے سی ای او ڈاکٹر شاہد شفیع نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے دھڑ کو الگ کرنا کسی چیلینج سے کم نہیں تھا، مربوط منصوبہ بندی اور ڈاکٹروں کی مہارت سے یہ کامیاب سرجری ممکن ہوئی، اس قسم کی سرجریز کیلئے مالی اور انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں اور 9 ماہ کے بچوں کو جڑے ہوئے سینوں سے الگ کرنا سرجری کا کمال ہے۔

ایان اور امان کے والد اسرار احمد کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد کچھ پریشان تھا لیکن اللہ نے بچوں کی جان بچانے کیلئے اسباب پیدا کئے اور بچوں کی کامیاب سرجری کی گئی۔ اسرار احمد کے جڑواں بچے ایک دوسرے سے پیوستہ حالت میں پیدا ہوئے تھے، 12 دسمبر 2020 کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی کامیاب سرجری کی گئی۔ آیان اور امان کا تعلق ایک دوسرے سے پیوستہ جڑواں بچوں کی قسم اومفالوپیگس (Omphalopagus) سے تھا، جس میں دونوں بچوں کے اجسام پیٹ پر جڑے ہوتے ہیں اور کچھ اندرونی غدود ان میں شامل ہوتے ہیں، بشمول جگر اور بعض اوقات آنتوں کے۔

جڑواں بھائیوں میں جگر کا کچھ حصّہ جڑا ہوا تھا۔ ان کے والد کے الفاظ یہ تھے کہ "یہ ہمارے لئے ایک بہت ہی چیلنجنگ سفر تھا۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال آنے سے پہلے، میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ آیان اور امان ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔ اس خواب نے مجھے ایک امید دلائی"۔

اسرار احمد نے ان واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو انہیں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال تک لائے، "میرا خاندان اور میں اس بات کے قائل تھے کہ یہ ہسپتال صرف امیروں کیلئے ہے اور یہاں ہمارے لئے علاج حاصل کرنے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے لیکن میرے اللہ نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کو میرے بچوں کا نجات دہندہ بنادیا۔ ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ اخراجات کیلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی دیکھ بھال پیشنٹ ویلفئیر پروگرام سے کی جائے گی"۔

ایک دوسرے سے پیوستہ جڑواں بچوں کا پیدا ہونا، شاذونادر ہی ہونے والی ایک پیدائشی بے قاعدگی ہے جس میں 250000 پیدائشوں میں سے کوئی ایک واقعہ پیش آتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب رحم مادر میں جڑواں بچوں کو تشکیل دینے کیلئے جنین کامیاب طور پر الگ نہیں ہوتا۔ باوجود اس کے، اس پیوستگی کی کوئی معلوم وجہ نہیں ہے۔ اس کی تشخیص حمل کے ابتدائی دور میں کی جاسکتی ہے۔ سرجری پیوستہ جڑواں بچوں کو علیحدہ کرنے کا واحد طریقہ ہے، جبکہ یہ تمام کیسوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرجری کی پیچیدگی اور سرجری کے بعد بقاء کی شرح کا انحصار بنیادی طور پر جڑے ہوئے مقامات پر اور اندرونی طور پر جڑے ہوئے غدود کی قسم اور تعداد پر ہوتا ہے۔

اس مشکل سرجری کو سرانجام دینے کیلئے ماہرین کی ایک کثیر المقاصد ٹیم بہت ہی باریک بینی سے منصوبہ بندی کرنے کیلئےسر جوڑ کر بیٹھی۔ ان ٹیموں کے دیگر فعال شرکاء کے ساتھ ساتھ، پیڈرئیٹک سرجری، انستھیسیولوجی اور ریڈیولوجی سے اور احتیاط کے طور پر گیسٹرو انٹیسٹینل سرجری اور نیورو سرجری سے تیار ڈاکٹرز، نرسیں اور ٹیکنیشیئنز شامل تھے۔ اس سرجری کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں تمام ٹیموں کو مسلسل انجام دہی کیلئے نظم و نسق کیلئے اور دونوں زندگیاں بچانے کیلئے وسائل کی دگنی مقدار کی ضرورت پیش آتی ہے۔

سرجری سے قبل، پیوستگی کی حالت کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے درکار مہارت اور وسائل کی ضروری تنظیم ثانی کیلئے ایک جدید امیجنگ اور سہ ابعادی (three dimensional) پروٹوٹائپنگ استعمال کی گئی تھی۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے پیڈرئیٹک سرجن ڈاکٹر ظفر نذیر نے 50 سے زائد کلینک اور انتظامی عملے کی مدد سے اس 8 گھنٹے طویل سرجری کیلئے کی جانے والی کوششوں کی رہنمائی کی۔

ڈاکٹر ظفر نذیر کا کہنا ہے کہ "اس ہسپتال میں اس نوعیت کی سرجری شاذونادر ہی ہوتی ہے اور یہ دوسری سرجری ہے جو کہ عمل میں آئی۔ آپریٹنگ روم کے اندر اور باہر وسائل کی ترتیب نو کیلئے غیر معمولی کوشش کی گئی۔ لیکن اس پروسیجر کے بعد دونوں بچوں کو نئی زندگی ملنے پر ہونے والی خوشی قابل دید تھی"۔

انستھیسیولوجسٹ اے کے یو ڈاکٹر فیصل شمیم نے کہا کہ انستھیسیولوجسٹس کا کردار نمایاں حیثیت کا حامل تھا کیونکہ ان کو اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ پروسیجر کے دوران دونوں بچے غیر متحرک رہیں۔ "آیان اور امان کی سرجری سے قبل نگہداشت کسی دوسری نگہداشت کی طرح نہیں تھی چونکہ وہ دھڑ کی طرف سے ایک دوسرے سے پیوستہ تھے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے، ان کو پلٹنے کیلئے ایک مکمل شگاف کی ضرورت تھی۔ چنانچہ ان کو ٹیوب پر نہیں ڈالا اس سے حرکت میں رکاوٹ پیش آسکتی تھی۔ نس کے ذریعے دوا کا انتخاب کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام تر پروسیجر کے دوران ایک پوری طرح منظم بے ہوشی جاری رہے۔

کامران شیخ