Aaj TV News

BR100 4,852 Increased By ▲ 66 (1.37%)
BR30 25,671 Increased By ▲ 691 (2.77%)
KSE100 45,186 Increased By ▲ 445 (0.99%)
KSE30 18,485 Increased By ▲ 153 (0.83%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 721,018 5050
DEATHS 15,443 114
Sindh 268,750 Cases
Punjab 248,438 Cases
Balochistan 20,241 Cases
Islamabad 65,700 Cases
KP 98,301 Cases

پاکستان تحریک انصاف نے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے حلقہ این اے75 کے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق کیس میں اپنا وکیل تبدیل کر لیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے امیدوارعلی اسجد کی وکالت اب علی ظفر کریں گے، قبل ازیں علی بخاری پی ٹی آئی کی جانب سے وکالت کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ من پسند افسران کو لگانے کا مقصد ن لیگ کے مضبوط پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا۔ جب ووٹرز کو روکنے کے باوجود ہار دکھائی دی تو پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرلیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر جو ملک میں شفاف الیکشن کے ضامن ہیں وہ اعلی افسران سے رابطہ نہ کر پائے۔ جن پولنگ اسٹیشن کے پی او غائب ہوئے وہاں ووٹنگ کی شرح 80 فیصد رہی۔

یہ واضح سکیم تھی الیکشن میں فراڈ کرنے کی۔ اسکیم تھی نوشین افتخار کے مضبوط علاقوں میں ووٹنگ کم رکھی جائے ، اور اپنی ہار کی کمی کو 20 پولنگ اسٹیشن سے انھوں نے پورا کیا۔

ن لیگ کے وکیل نے کہا حلقے میں پورے دن فائرنگ ہوتی رہی، پولیس خاموش کھڑی رہی۔ وہ جانتے تھے کہ ن کا مرکزی گڑھ کون سے پولنگ اسٹیشن ہیں۔ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن داخلے سے روکا گیا۔ ان جگہوں پر ٹرن آوٹ 35 فیصد سے کم رہا اور دیگر پولنگ اسٹیشن میں پچاس فیصد سے اوپر گیا۔