Aaj TV News

BR100 4,697 Increased By ▲ 36 (0.78%)
BR30 18,919 Increased By ▲ 115 (0.61%)
KSE100 45,679 Increased By ▲ 349 (0.77%)
KSE30 17,730 Increased By ▲ 180 (1.02%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,840 475
DEATHS 28,728 10
Sindh 475,616 Cases
Punjab 443,094 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,689 Cases
KP 179,995 Cases

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ سینیٹ انتخابات پرانے طریقہ کار یعنی خفیہ اور ناقابل شناخت بیلٹ پیپرز پر ہوں گے۔ اس فیصلے سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی دو ماہ سے زائد کی کوششیں ناکام اور مطالبے پورے نہیں ہو سکے۔

سینیٹ انتخابات میں پیسوں کے لین دین کے خدشات پر وزیر اعظم عمران خان نے اوپن بیلٹ انتخابات کی تجویز اور آئین میں ترمیم کے لیے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی۔

حکومت اپوزیشن تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے پر بات آگے نہ بڑھی تو حکومت نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے رائے مانگ لی۔

23 دسمبر کو دائر ہونے والے ریفرنس کی 17 سماعتوں کے بعد یکم مارچ کو سپریم کورٹ کی رائے سامنے آئی جس کے بعد حکومتی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بارے میں فاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بتایا کہ ’ہم نے الیکشن کمیشن کو اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا اور ہمارا مدعا یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے۔‘

اس کے ایک دن بعد منگل کو الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات پرانے طریقہ کار کے مطابق الیکشن کرانے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے حکومت کا پہلا اور بنیادی مطالبہ کہ انتخابات اوپن یا قابل شناخت بیلٹ پیپر پر ہوں نظر انداز کر دیا گیا۔

اس سے قبل ریفرنس کی سماعت کے دوران ہی حکومت نے ایک طرف الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے صدارتی آرڈینینس جاری کیا اور اسے سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط کر دیا۔

سپریم کورٹ کی رائے سامنے آنے کے بعد حکومتی آرڈیننس بھی از خود ہی تحلیل ہو گیا۔ جس سے حکومت کی آرڈیننس کے تحت اوپن بیلٹ انتخاب کی کوشش بھی رائیگاں ہوگئی۔

اس کے علاوہ حکومت نے قومی اسمبلی کے گذشتہ اجلاس میں آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ تعداد نہ ہونے کے باوجود آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کی کوشش بھی تاہم ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باعث ترمیمی بل بھی پیش نہ ہوسکا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس ایک تو وقت بہت کم تھا کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کرتے کہ بیلٹ پیر قابل شناخت ہوتا۔ دوسرا یہ کہ آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ بیلٹ پیپر پر ایک نکتہ بھی لگا سکیں۔ اس کے لیے آئین اور پھر قانون دونوں میں ترمیم کرنا پڑے گی۔‘

اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو خدشہ کیا تھا کہ اس نے پے در پے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی کوشش کی؟

پارلیمانی تجزیہ نگار ظفراللہ خان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ تحریک انصاف کا اندرونی بحران تھا۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ ’اس ساری مشق کے پیچھے تحریک انصاف کا ایک ہی موقف تھا کہ باغی سامنے آنے چاہئیں تو خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اسمبلی کے باغی ارکان تو سامنے آ گئے ہیں۔ یار محمد رند، نصیب اللہ مری، لیاقت جتوئی، لیاقت ترکئی سب کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ اپنے ویڈیو بیانات میں اپنی جماعت کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کرنے والے بھی تحریک انصاف کے ایم پی اے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف پہلی بار سینیٹ کا انتخاب لڑ رہی ہے اور ان سے صورت حال سنبھالی نہیں گئی اور گبھرا گئے جس کی وجہ سے یہ سارے ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ انتخابات میں سب سے سخت مقابلہ پنجاب اسمبلی میں ہونے کی توقع تھی جہاں ارکان صوبائی اسمبلی کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ووٹ خریدنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے, اس لیے دونوں حریف جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں کانٹے کے مقابلے کی توقع تھی لیکن ڈرامائی انداز میں بلامقابلہ انتخاب کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے. تاہم خیبرپختونخوا میں حکومتی جماعت کو اب بھی کچھ خدشات ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پی ڈی ایم نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جیسے مضبوط امیدوار کو ان ہی کے کابینہ کے رکن حفیظ شیخ کے مقابلے میں اتار کر دلچسپ صورتحال پیدا کر دی ہے۔