Aaj.tv Logo

جسٹس فائز عیسی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی،پاکستان کے ساتھ کیا کھیل ہورہا ہے؟

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں ہے یا پھر فیصلے کرنے کی؟

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیئے کہ کوئی جنگ تو نہیں ہورہی تھی کہ دوماہ سے مشترکہ مفادات ‏کونسل کا اجلاس نہیں ہوا؟

سماعت ‏کے دوران چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا بھی تذکرہ ہوا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کرانے والا بندہ الیکشن کمیشن کا نہیں لگ رہا تھا۔

جسٹس قاضی فائزعیسی نے پنجاب لوکل باڈی آرڈیننس لانے پراظہاربرہمی کیا، اور کہا کیا گورنرپنجاب اسمبلی کے 374 ارکان سے ‏زیادہ قابل ہیں۔

سماعت میں انہوں نے مزید کہا کہ ایک بندے کی خواہش پرپوری پنجاب اسمبلی کوبائی پاس کیا گیا، کیا قانون شکنی پرحکومت کو قائم رہنا چاہیے؟

سماعت ‏کے دوران چیئرمین سینیٹ کےانتخاب کا بھی تذکرہ ہوا،

جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کرانے والا بندہ الیکشن کمیشن کا نہیں لگ رہا تھا، عدالت نے قراردیا کہ سندھ، بلوچستان اورخیبرپختونخواہ حکومت بلدیاتی ‏انتخابات کیلئے تیارہیں، مشترکہ مفادات کونسل مردم شماری کے ‏معاملے پر ترجیحی بنیاد پر اقدامات اٹھائے،

کیس کی سماعت ‏کیلئے تین رکنی بنچ تشکیل دینے کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوادیا گیا۔