Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ڈسکہ الیکشن سےمتعلق تشویشناک خبریں سامنےآئیں۔ اور 10 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کو ایک جگہ لے جایا گیا

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کے دوران لاپتاپریزائیڈنگ افسران غائب ہوئےتھے،اور 10پریزائیڈنگ افسران کو ایک جگہ لےجایاگیا۔

شاہدخاقان عباسی نے مزید کہا کہ افسران کواغوا کرنےوالے کون تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ موبائل لوکیشن سےاغواء ثابت ہوگیا ہے،

پہلے این اے پچھتر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ریٹرننگ افسر نے پریزائیڈنگ افسران کی مبینہ گمشدگی اور تاخیر سے آنے کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ۔ جس میں انہوں نے پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے نتائج میں رد و بدل کا اعتراف کرلیا ۔

ریٹرننگ افسر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے دوران پریزائیڈنگ افسران حیرت زدہ اور خوفزدہ تھے ۔ سب کے بیانات ایک جیسے تھے ۔ چودہ پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران اور لیگی اُمیدوار کے نتائج میں فرق ہے ۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ کے پندرہ سو تینتالیس ووٹ کم ہوئے۔

این پچھتر کے ضمنی انتخاب کا دنگل میں ریٹرننگ افسر نے پریزائیڈنگ افسران کی جانب سےدھاندلی کااعترف کرلیا۔

ریٹرننگ افسر اطہر عباسی نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا آٹھ پریزائیڈنگ افسران کے جواب ایک جیسے تھے، آٹھ پریزائئڈنگ افسران نے کہا کہ دھند کے باعث وہ ساڑھے چار بجے ریٹرننگ آفس پہنچے ۔

رپورٹ کے مطابق آٹھ پریزائیڈنگ افسران نے وٹس ایپ پر نتائج نہ بھیجنے پر کہا کہ انکے فون کی بیٹری ختم ہوگئی تھی ۔ تحقیقات کے دوران پریزائیڈنگ افسران حیرت زدہ اور خوفزدہ تھے ۔ پریزائیڈنگ افسران نے بہانا بنایا کہ ٹرانسپورٹ خراب ہوئی اور وٹس ایپ کام نہیں کر رہا تھا ۔ چودہ پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران اور لیگی اُمیدوار کے نتائج میں فرق ہے ۔ بظاہر پریذائیڈنگ افسران نے نتائج تبدیل کیے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افسران کے فارم پینتالیس کے مطابق متعلقہ پولنگ اسٹیشنز پر اٹھارہ ہزار ووٹ ڈالے گئے ۔ پی ٹی آئی، اُمیدوار کو بارہ ہزار سات سو تریسٹھ اور لیگی اُمیدوار کو پینتیس سو ووٹ ملے ۔ ووٹنگ کا تناسب 75 فیصد رہا , لیگی اُمیدوار کے فارم پینتالیس کے مطابق اُنہیں پانچ ہزار اور پی ٹی آئی کو چھ ہزار سات سو پانچ ووٹ ملے ۔ ووٹ ڈالنے کی شرح پینتالیس فیصد رہی ۔