Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,453 431
DEATHS 28,761 8
Sindh 476,494 Cases
Punjab 443,379 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,848 Cases
KP 180,254 Cases

ایف آئی اے لاہور نے شوگر اسکینڈل تحقیقات کےلئے شہباز شریف کو 22 جون کو طلب کر لیا۔شہباز شریف کو تمام متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ایف آئی اے کی جانب سے بھیجے گئے کال اَپ نوٹس میں 4 سوالوں کے جوابات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹس کے مطابق ایف آئی اے کو رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 2008 اور 2018 کے دوران شریف فیملی کے ملازمین کے نام پر کھولے گئے بنک اکاؤنٹس میں 25 ملین روپے منتقل کئے گئے۔ اس عرصے میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے۔شہباز شریف سے پوچھا گیا ہے کہ وہ ان ٹرانزیکشنز کےبارے میں کیا جانتے ہیں؟ اورنگزیب بٹ نامی شخص کے ذریعے 5 ملین گلزار نامی کم تنخواہ والے ملازم کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس میں کیسے منتقل ہوئے۔ رقوم کی منتقلی کےلئے سلمان شہباز نے وزیراعلیٰ کا ماڈل ٹاؤن کیمپ آفس اور گاڑی بھی استعمال کی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ کو شہباز شریف ذاتی حثیت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔