Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

مسلسل تنازعات میں گھرے رہنے والے مفتی عبدالقوی کی ایک ایسی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ دیکھ کر کوئی بھی انسان شرم سے پانی پانی ہوجائے۔

حریم شاہ کی جانب سے تھپڑ پڑنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے ہی مفتی عبدالقوی منظر عام سے غائب تھے اور میڈیا پر آنے سے بھی گریزاں تھے، تاہم اب ان کی ایک اور انتہائی شرمناک ترین مبینہ ویڈیو لیک ہو گئی ہے۔

مفتی قوی کو تھپڑ پڑنے کی ویڈیو: بذریعہ، انسٹاگرام/حریم شاہ آفیشل

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ویڈیو میں مفتی عبدالقوی ویڈیو کال پر کسی کے ساتھ مصروف ہیں اور مکمل برہنہ حالت میں گفتگو کے دوران مسلسل خود لذتی میں مشغول ہیں اور بار بار کیمرہ بھی اپنے "پوشیدہ اعضا" کی جانب کرتے ہیں۔

ویڈیو لیک کرنے والی شخصیت نے انتہائی چالاکی سے کام لیا ہے، عبدالقوی جس کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کر رہے ہیں اس نے اپنا کیمرہ بند کر رکھا ہے جبکہ مفتی قوی کو مکمل ریکارڈ کیا ہے، ریکارڈنگ کے بعد جب ویڈیو لیک کی گئی تو اس کی آواز بھی ایڈٹ کرتے ہوئے بند کر دی گئی تاکہ معلوم نہ ہو سکے کہ وہ کس کے ساتھ محوِ گفتگو میں۔

نجی ویب سائٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے مفتی قوی نے اپنے دفاع کیلئے لاہور کے مدرسے میں طالب علم کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے والے مفتی عزیز کی بھی حمایت کر دی۔

مفتی قوی کے مطابق اس طرح مفتی عزیز الرحمان کے ساتھ ایک لڑکے کی ویڈیو بنا کر انہیں بدنام کیا گیا، اسی طرح ان کی جعلی ویڈیو بنا کر وائرل کی جارہی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو جھوٹی باتیں پھیلا کر ویڈیوز وائرل ہونے سے یوٹیوب کے ذریعے پیسے کماتے ہیں۔

مفتی قوی نے کہا کہ جو وائرل ویڈیو مجھ سے منسوب کی جارہی ہے اس میں نظر آنے والی جسامت میری نہیں، کسی نے میری تصویر لگا کر کسی اور کا جسم جوڑا اور میرے نام سے منسوب کردی تاکہ شہرت اور پیسہ کمایا جاسکے۔

واضح رہے کہ مفتی عبدالقوی کی اس سے قبل بھی غیر اخلاقی گفتگو پر مبنی ویڈیو کالز لیک ہو چکی ہیں جس میں وہ حریم شاہ کے ساتھ موجود ہیں، لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ تازہ لیک ہونے والی ویڈیو میں مفتی قوی کے ساتھ کون ہے۔ ویڈیو لیک ہونے کے بعد انٹرنیٹ صارفین میں کافی غصہ پایا جارہاہے۔

سیدہ ترمذی نامی ٹوئٹر صارف لکھتی ہیں، 'اسلام کی شبیہہ خراب کرنے والوں کو مفتی کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید لکھا، 'وقت نے ثابت کیا کہ قندیل ان کے بارے میں ٹھیک تھی۔'

ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا، 'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مفتی قوی ہے یا عزیزالرحمان، سزا ان کیلئے واضح ہے جو نافرمانی کرتے ہیں اور گناہ جاری رکھتے ہیں۔'

حمزہ کلیم بٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، 'ان احمقوں کو مفتی نہ کہیں، یہ غلاظت سے بھی بدتر ہیں، انہیں سرعام پھانسی دینی چاہئیے۔'

جبکہ معروف صحافی اُسامہ خلجی لکھتے ہیں، 'مفتی قوی کی نجی ویڈیو کو ان کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ اور لیک کیا گیا جو انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے۔ براہ کرم ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو شئیر نہ کریں۔ حالانکہ اس سے ان ملاؤں کی منافقت کو بے نقاب کیا گیا ہے جو عورتوں کو بند کر کے ان کو خاموش کرنا چاہتے ہیں، جب کہ خود وہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات میں ملوث ہیں۔'

کچھ لوگوں نے اس معاملے میں بھی مزاح کا عنصر تلاش کرلیا ہے۔

ٹیٹو پاٹیا نے ٹویٹ کیا، 'حریم شاہ مفتی قوی کی ویڈیو لیک کرنے کے بعد۔'

احمد علی اعوان نے لکھا، 'اگر لعنت کی کوئی شکل ہوتی۔' اور پھر مفتی قوی کی تصویر شئیر کی۔

نیہال نامی ٹوئٹر ہینڈل نے ایک میم شئیر کی جس میں لکھا تھا، 'لو جی، نواں کٹا کھل گیا۔'

٭ حلال شراب

اس سے قبل ایک انٹرویو کے دوران مفتی عبدالقوی شراب کو بھی حلال قرار دے چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام مشروبات جن میں 40 فیصد سے کم الکوحل ہو وہ حلال ہیں۔ اگر الکوحل معدنیات سے حاصل کی گئی ہے تو اس کی 100 فیصد مقدار بھی حلال ہے۔ اگر ہمارے علماء کرام کے تمباکو والے پان حلال ہیں تو پھر آج کے مشروبات بھی حلال ہیں۔

پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے الکوحل ریسرچ گروپ کے سینئر سائنس دان ولیم کیر کے مطابق بیئر میں ساڑھے 4 فیصد الکوحل ہوتی ہے۔ وائن میں 11 اعشاریہ 6 فیصد اور شراب میں 37 فیصد الکوحل ہوتی ہے۔

'ذہنی مریض'

عبدالقوی کو ان کے چچا بھی ذہنی مریض قرار دے چکے ہیں۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کے چچا عبدالواحد ندیم نے کہا کہ ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارے خاندان کا ہونہار فرزند ایسی کوئی حرکت کرسکتا ہے جس سے پورا خاندان ٖغم کی کیفیت میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ان کی دماغی حالت صحیح نہیں ہوتی اور وہ اپنی حالت ٹھیک نہیں کرلیتے اس وقت تک ان سے لفظ 'مفتی' واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ اس میں صرف خاندان کی نہیں علمِ دین اور اسلام کی توہین ہے۔

مفتی عبدالقوی کے چچا کا کہنا تھا کہ بہت دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ آج کے بعد ہم عبدالقوی صاحب تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہم ان سے مفتی کا لفظ واپس لے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا اس لیے کیا کہ ہمارے دادا، والد اور بڑے بھائی اور پھر ہم سب کو مفتی کہا جاتا تھا اور پھر انہیں کہا جانا شروع کیا گیا مگر اپنی خراب دماغی حالت کی وجہ سے انہوں نے اس لفظ کو داغدار کردیا ہے۔

مفتی عبدالقوی کے چچا نے مزید کہا کہ ہمارے خاندانی اصول کے لحاظ سے وہ اس لفظ کے حقدار نہیں رہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ وہ بچپن سے بہت ذہین، لائق تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب انتہائی غلیظ گفتگو، انتہائی غلط حرکات تک مسئلہ پہنچا تو اس پر پورا خاندان ان کو ملامت کررہا ہے، سب سخت پریشان ہیں، صبح سے شام تک فون آتے رہتے ہیں کہ آپ کے کیا لگتے ہیں؟

مفتی عبدالقوی کے چچا نے کہا کہ وہ میرے بھتیجے ہیں لیکن ان کو کیا ہوا؟ کیسے وہ اس عادت کا شکار ہوئے؟کس طریقے سے وہ لوگ جو مقامی شہرت کے مالک تھے آج ان کو خواہش ہوئی کہ کیوں نہ ہم ایسے آدمی کا سہارا لیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ مفتی عبدالقوی کے نام کے ساتھ کسی کا نام جائے گا تو یقینی بات ہے کہ اس کو بھی شہرت ملی گی، اس کا نام بھی آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مفتی عبدالقوی کو میل جول سے روک دیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک ان کا علاج مکمل نہیں ہوتا ان کی حالت درست نہیں ہوتی اس کو وقت انہیں محفوظ رکھا جائے۔

مفتی عبدالقوی کے چچا نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ ان کے اس بے اعتدلانہ رویے سے جہاں خاندان کو حفاظت ملے وہاں علمِ دین کے حوالے سے مفتیان کو جو نام بدنام ہورہا ہو اس سے بھی بچا جائے۔

٭ مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ

جون 2016 میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں مفتی عبدالقوی نے قندیل بلوچ کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد جب ان دونوں کی کراچی میں ملاقات ہوئی تو قندیل بلوچ نے ان کے ساتھ سیلفیاں لیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور انھیں لاکھوں لوگوں نے شیئر کیا جب کہ ٹیلی ویژن چینلوں پر انھیں بار بار دکھایا جاتا رہا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ان تصاویر کی وجہ سے مذہبی حلقوں کی طرف سے مفتی عبدالقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت معطل کر دی گئی۔

15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انہیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ قندیل کے بھائی وسیم نے شروع میں گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انہوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں لیکن بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

دسمبر 2016 میں ملتان پولیس نے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جن میں مقتولہ کا بھائی وسیم، حق نواز اور عبد الباسط شامل تھے۔ تینوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ ان ملزمان کے خلاف قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقتولہ کے والد عظیم نے قتل کا قصووار مفتی عبدالقوی کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ملزمان کو اس قتل پر اکسایا ہے۔ پولیس نے مفتی عبدالقوی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا۔ قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی سیلفیاں کھینچی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں۔ مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے کبھی بھی ملزمان کو قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں اکسایا۔

یہ واقعہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں شہ سرخیوں میں آیا جس کے بعد پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 311 سی کا اضافہ کر دیا جس سے اب اس مقدمے کا مدعی چاہتے ہوئے بھی ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

اس قتل پر پاکستان بھر کے مختلف حلقوں کی طرف سے سخت ردِ عمل سامنے آیا اور بہت سے لوگوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کو آزادیِ اظہار کی سزا دی گئی ہے۔ آسکر انعام یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنوئے قندیل بلوچ پر ایک دستاویزی فلم تیار کر رہی ہیں جب کہ ان کی زندگی پر ‘باغی’ کے نام سے ایک ٹی وی سیریئل ان دنوں نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا جا رہا ہے۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بھی قندیل بلوچ کے قتل کے بعد کہا تھا کہ ‘غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل میں کوئی غیرت نہیں ہوتی۔’