Aaj TV News

BR100 4,434 Decreased By ▼ -238 (-5.09%)
BR30 17,532 Decreased By ▼ -1303 (-6.92%)
KSE100 43,420 Decreased By ▼ -1949 (-4.3%)
KSE30 16,764 Decreased By ▼ -812 (-4.62%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور ان کی قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔

اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر خوراک سید فخر امام، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، جمشید اقبال چیمہ اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو ملک بھر میں عام آدمی کے استعمال میں آنے والی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ خصوصاً منڈی اور پرچون کے نرخوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا، اس کے علاوہ ملک میں چینی اور گندم کے موجود اسٹاک اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں واضح کمی لانے کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کلئےھ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاملات حتمی مراحل میں ہیں جس کے نتیجے میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 10 سے 15 روپے فی کلو کمی کی توقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کا تحفظ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے لہذا چیف سیکرٹریز بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام خصوصا منڈی اور پرچون میں غیر منطقی فرق کو ختم کرنے کے حوالے سے ہر ممکنہ انتظامی اقدام کو یقینی بنائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ محض انتظامی افسران کیخلاف کاروائی ناکافی ہے، انتظامی اقدامات کے نتائج سامنے آنے چاہیں تاکہ عوام کو ریلیف میسر آئے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چینی اور گندم کی مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مفصل منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔