Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,453 431
DEATHS 28,761 8
Sindh 476,494 Cases
Punjab 443,379 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,848 Cases
KP 180,254 Cases

ٹیکساس اسقاط حمل قانون "طالبان کا قانون" قرار

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2021
ٹیکساس کے قانون نے 1973 میں رو بمقابلہ ویڈ میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے قائم اسقاط حمل تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کی، جو بائیڈن
ٹیکساس کے قانون نے 1973 میں رو بمقابلہ ویڈ میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے قائم اسقاط حمل تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کی، جو بائیڈن

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل کے حقوق کے گروپوں کی درخواست پر عمل کرنے سے انکار کے بعد امریکی ریاست ٹیکساس نے بدھ کے روز ملک میں اسقاط حمل کے خلاف سخت ترین قانون نافذ کیا ہے، جس کے مطابق چھ ہفتوں کے حمل کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس قانون کو قدامت پسندوں (کنزرویٹوز) کی فتح قرار دیا جارہا ہے، جنہوں نے طویل عرصے سے امریکہ میں اسقاط حمل تک رسائی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

صدر جو بائیڈن سمیت ممتاز ڈیموکریٹس نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکساس کے قانون نے 1973 میں رو بمقابلہ ویڈ میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے قائم اسقاط حمل تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کی۔

بائیڈن نے کہا ، 'میری انتظامیہ اس حق کی حفاظت اور دفاع کرے گی۔'

جبکہ نائب امریکی صدر کمالہ حارس کا کہنا ہے کہ ،' ٹیکساس کا قانون SB8 تقریبا پانچ دہائیاں قبل رو بمقابلہ ویڈ کے تحت قائم کردہ آئینی حق کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ غیر متناسب طور پر رنگ والی برادریوں اور کم آمدنی والے افراد کو صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے سے متاثر کرے گا۔ ہمیں اس حق کی حفاظت کرنی چاہیے۔'

دوسری جانب ٹیکساس کے اسقاط حمل کے قانون کو "طالبان کا قانون" قرار دیا جارہا ہے۔

معروف مصنف اسٹیفن کنگ کہتے ہیں، 'طالبان ٹیکساس کے اسقاط حمل کے قانون کو پسند کریں گے۔'

کیون کیلیہر نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا ہے کہ، 'طالبان ٹیکساس میں اسقاط حمل پر پابندی لگانے میں کامیاب ہو گئے۔'

ایک اور صارف نے طنزیہ ٹوئٹ کیا کہ،'ٹیکساس طالبان نے شرعی قانون نافذ کردیا۔'

جرسی گرل نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا، 'میں امید کر رہی تھی کہ ہم امریکی طالبان کے ٹیکساس کے کنٹرول میں ہونے اور وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔'

اسقاط حمل کے حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندی کسی بھی امریکی ریاست میں اس تاریخی فیصلے کے بعد نافذ نہیں کی گئی ہے۔

اسقاط حمل کے حقوق کے گروہوں نے کہا کہ یہ قانون اسقاط حمل کے طریقہ کار پر مکمل طور پر پابندی کے مترادف ہے، کیونکہ 85 سے 90 فیصد اسقاط حمل کے چھ ہفتوں کے بعد ہوتے ہیں، اور اس قانون سے ممکنہ طور پر بہت سے کلینکس کو بند کرنے پر مجبور کریں گے۔

رائٹرز/ایپسوس پولنگ کے مطابق، امریکیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ امریکہ میں اسقاط حمل قانونی ہونا چاہیے۔ کچھ 52 فیصد نے کہا کہ یہ زیادہ تر یا تمام معاملات میں قانونی ہونا چاہیے ، صرف 36 فیصد نے کہا کہ یہ زیادہ تر یا تمام معاملات میں غیر قانونی ہونا چاہیے۔

لیکن یہ ایک گہرا پولرائزنگ مسئلہ بنا ہوا ہے، ڈیموکریٹس کی اکثریت اسقاط حمل کے حقوق کی حمایت کرتی ہے اور ریپبلکن کی اکثریت ان کی مخالفت کرتی ہے۔

امریکہ میں اسقاط حمل کے حامی اور مخالفین کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہیں جہاں اس سال اکتوبر سے اسقاط حمل تک رسائی میں مزید پابندیوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ کیا جانا ہے۔

1973 کا رو بمقابلہ ویڈ کا عدالتی فیصلہ کیا ہے؟

امریکہ میں 1973 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے کے تحت اسقاط حمل کو خواتین کا حق قرار دے کر آئینی تحفظ دیا گیا تھا جس کے مطابق اسقاط حمل تب تک ممکن ہے، جب تک رحم مادر میں موجود بچہ رحم سے باہر بھی سانس لینے کے قابل نہ ہو جائے۔ ماہرین صحت اسے 24 سے 28 ہفتے تک کا وقت قرار دیتے ہیں۔

امریکی ادارے سینٹر فار ری پروڈکٹو رائٹس کی سینئیر سٹاف اٹارنی جینی ما نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ قانون ساز مسلسل خواتین کے اسقاط حمل کے حق کو چھیننا چاہتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ میں ایسی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں لیکن بقول ان کے 'جس طریقے سے اب اس اسقاط حمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، ایسا گزشتہ پانچ دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔'

انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال اسقاط حمل تک رسائی کو محدود کرنے کی 500 سے زائد قانونی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات خواتین کے حقوق کے منافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا 'اب جب کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں بھی قدامت پسند خیالات رکھنے والے ججوں کی اکثریت ہے، تو خدشہ ہے کہ اسقاط حمل تک رسائی آسان بنانے کے فیصلے میں تبدیلی لائی جائے۔'

کن امریکی ریاستوں میں اسقاط حمل پر پابندیوں میں اضافے کی کوششیں کی گئی ہیں؟

ریاست لوئی زیانا میں قانون سازوں نے پندرہ ہفتے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کا قانون منظور کیا مگر اس پر عمل درآمد تب تک نہیں ہوگا جب تک سپریم کورٹ ریاست مسی سپی کے مقدمے کا فیصلہ نہیں کرتی۔

ریاست آرکنساس میں رواں برس مارچ میں ہر قسم کے ابارشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ریپ یا پھر جان پہچان والوں سے اختلاط کے نتیجے میں ٹھہرنے والے حمل کو بھی ختم کروانے پر پابندی عائد ہے۔ اسقاط حمل یا ابارشن صرف طبی ایمرجنسی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اس نئے قانون پرعمل درآمد اگست سے متوقع ہے۔

ریاست اوکلاہوما میں بھی ہر قسم کے ابارشن پر پابندی عائد کرنے کا قانون پاس کیا گیا ہے جو اس سال نومبر سے لاگو ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور قانون کی منظوری بھی دی گئی ہے جس کے مطابق چھ ہفتے کے حمل کو ختم کروانے میں مدد دینے والے طبی معالج بھی سزا کے مرتکب ہوں گے۔

ریاست ٹینیسی میں گزشتہ برس متعدد پابندیاں لاگو کی گئی ہیں جن میں چھ ہفتے تک کے حمل کو بھی ختم کروانے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی ریاستوں ایریزونا، مونٹانا، ساؤتھ کیرولائنا، اوہائیو، کینٹکی، آئیڈاہو، پینسلوینیا اور میزوری میں بھی اسقاط حمل پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قانونی کوششیں کی گئی ہیں۔