Aaj TV News

BR100 4,858 Decreased By ▼ -103 (-2.07%)
BR30 23,865 Decreased By ▼ -558 (-2.28%)
KSE100 46,009 Decreased By ▼ -519 (-1.12%)
KSE30 18,179 Decreased By ▼ -243 (-1.32%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,230,238 2,333
DEATHS 27,374 47
Sindh 452,267 Cases
Punjab 424,701 Cases
Balochistan 32,796 Cases
Islamabad 104,472 Cases
KP 171,874 Cases

ڈنمارک کے فیرو جزائر میں ہفتے کی رات کو ایک روایتی شکار کے حصے کے طور پر ایک ہزار سے زائد ڈولفنز کو ذبح کیے جانے پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’شکار کے دوران تقریباً 15 سو اٹلانٹک سفید چہرے والی ڈولفنز کو چاقوؤں اور برچھیوں سے مارا گیا۔ اس عمل کو ڈنمارک کے جزیروں کے رہائشی ’ "گرینڈادراپ" کہتے ہیں۔

سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے سینکڑوں ڈولفنز کی فوٹیج شیئر کی جو ساحل پر مردہ حالت میں پڑی ہیں اور ان کے زخموں سے رسنے والے خون سے سمندر سرخ ہو رہا ہے۔

ویڈیو میں ایسے لوگوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو کم گہرے پانی میں پھنسی نیم مردہ ڈولفنز کو روکنے اور مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے فیس بک پر لکھا کہ ’کل فیرو جزائر نے فیروز کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ذبح کیا۔‘

مقامی لوگوں کو اس قسم کے تمام شکاروں کو روکنے کا مطالبہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟

بہت سے دیگر لوگوں نے بھی اس عمل سے اپنی بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔

آن لائن کیمپین کرنے والے گروپ بلیو پلینیٹ سوسائٹی نے ٹویٹ کی کہ ’جزائر فیرو میں کچھ لوگ کل 1428 سفید چہرے والے ڈولفنز کے قابل مذمت شکار کو "تاریخ کا سب سے بڑا گرائنڈراپ" قرار دے رہے ہیں۔‘

’اگر یہ درست ہے تو یہ واقعی خوفناک ہے۔‘

اس شکار کی روایت یہ ہے کہ کشتیاں ڈولفن یا وہیل کے ایک گروہ کو گھیر لیتی ہیں اور انہیں ایک خلیج یا لمبی تنگ سی جگہ لے جاتی ہیں جہاں انہیں ان کے گوشت کے لیے قتل کر دیا جاتا ہے۔

اب اس عمل کو حکومت کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور شکاریوں کو اس عمل کی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے اور انہیں صرف ان خلیجوں تک محدود رہنا ہوتا ہے جن کی حکومت طرف سے اجازت ہے۔

جزیرے کی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ’جزائر فیرو میں وہیلنگ کو صدیوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘

’قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ شکار اس طرح سے کیا جائے کہ وہیل کو ممکنہ حد تک کم تکلیف پہنچے۔‘

تاہم جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اس عمل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے وہ غیر ضروری اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔