غزہ امدادی بیڑے کے دو کارکن تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل
اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ جانے والے امدادی بیڑے کے دو اہم کارکنوں کو روک کر اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش کی جائے گی۔
اسرائیلی اخبار’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ کی جانب امدادی بیڑے کی قیادت کرنے والے دو کارکنوں کو اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اسرائیلی فورسز نے ہفتے کے آغاز میں کریٹ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں بیڑے کو روک لیا تھا۔
وزارت کے مطابق سیف ابو کشک، جو ایک فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری ہیں اور تھیگو اویلا، جو برازیلی شہری ہیں، اب اسرائیل میں موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش کر کے ان سے تفتیش کی جائے گی۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سیف ابو کشک ایک ایسی تنظیم کے اہم رکن ہیں جسے امریکا نے حماس سے منسلک قرار دے کر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جب کہ تھیگو اویلا پر بھی اسی تنظیم کے ساتھ کام کرنے اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
وزارت خارجہ کے مطابق دونوں کارکنوں کو ان کے متعلقہ ممالک کے سفارتی نمائندوں سے ملاقات کی سہولت بھی دی جائے گی۔ یہ دونوں افراد عالمی سومد امدادی بیڑے کی انتظامی کمیٹی کا حصہ ہیں، جو غزہ کی بحری ناکا بندی توڑنے کی متعدد کوششوں کے پیچھے رہی ہے۔
ادھر بیڑے میں شامل تقریباً 175 دیگر کارکن، جنہیں اسرائیلی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، کریٹ میں ہی جہازوں سے اتر گئے۔
یہ تازہ کوشش ایک سال سے بھی کم عرصے بعد کی گئی ہے، جب اسی امدادی بیڑے کی ایک اور کوشش کو بھی اسرائیلی حکام نے ناکام بنا دیا تھا۔ اسرائیلی حکام بارہا ان امدادی بیڑوں کو تشہیری مہم قرار دیتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے ذریعے پہنچایا جانے والا امدادی سامان نہایت محدود ہوتا ہے۔













