'یہ بھی دیکھا جانا چاہیئے کہ ٹی ٹی پی آئین پاکستان کو مانتی بھی ہے یا نہیں'

لیگی رہنما ملک احمد خان کاکہناہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے قبل...
شائع 02 اکتوبر 2021 10:18pm

لیگی رہنما ملک احمد خان کاکہناہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے قبل حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتی تو ملک کےلئے بہتر ہوتا، یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ ٹی ٹی پی آئین پاکستان کو مانتی بھی ہے یا نہیں۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازکے دورے جنوبی پنجاب روانگی سے قبل لیگی رہنمائوں ملک احمد خان، اویس لغاری اور عطااللہ تارڑ نےمیڈیا کودورے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ملک احمد خان نےکہاکہ حکومت کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

پارٹی کےمرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا تارڑ نے کہا کہ جنوبی پنجاب مسلم لیگ ن کا قلعہ ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری اویس لغاری نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کو علحیدہ صوبے کے نام پردھوکہ دیا۔

حمزہ شہبازکی روانگی کے موقع پرلیگی کارکنان کی جانب سے دو بکروں کا صدقہ بھی دیاگیا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے حکومتی مذاکرات کو خفیہ رکھنا مناسب نہیں، یہ حساس قومی معاملہ ہے، نواز دور میں مذاکرات کی منظوری پارلیمنٹ سے لی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے خود عمران خان کے گھر جاکر مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا تھا، قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور عام معافی کی پیشکش نے کئی سوالات اٹھا دیے، یہ حساس قومی معاملہ ہے جس کے بارے میں مذاکرات کو خفیہ رکھنا انتہائی نامناسب ہے۔

ادھرپاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمان کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بیان انتہائی حساس ہے، وزیراعظم نے انٹرویو میں ٹی ٹی پی کو معاف کردینے کا بیان دیا ہے، ٹی ٹی پی کو معاف کرنے کا بیان شہداء کے ورثا کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ، ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے متعلق پارلیمان کو بائی پاس کیا گیا ہے۔

پی پی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہتھیار پھینکنے کی صورت میں ٹی ٹی پی کو معاف کرنے کا بھی بیان دیا ہے، پارلیمان کے اعتماد میں لئے بغیر اتنا بڑا اقدام اٹھانے کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم کا بیان انتہائی حساس اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، طالبان سے کس بنیاد اور کن شرائط پر مذاکرات کئے جا رہے ہیں؟ ٹی ٹی پی سی مذاکرات سے ملک کی پارلیمان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟

سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی نیر حسین بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بیان انتہائی حساس بیان ہے جس پر وطن کی حفاظت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قائد بے نظیر بھٹو شہید کی وارث جماعت پیپلز پارٹی کو شدید تحفظات ہیں، ہزاروں سویلین فوجی شہدا کے وارثین دہشت گردوں کو نشان عبرت بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔