'طاقتور ادارے ایسی ناجائز حکومت کیلئے سہارا بنے ہوئے ہیں'
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات حکومت نہیں کوئی اور کر رہے ہیں۔ طاقتور ادارے ایسی ناجائز حکومت کیلئے سہارا بنے ہوئے ہیں، ادارے اگر ایسی حکومت کی پشت پناہی کرینگے تو پھر وہ خود ذمہ دار ہونگے۔ پنڈورا پیپرز سامنے آنے پر عمران خان کی کچن کیبنٹ کھل کر سامنے آگیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پارٹی کے صوبائی ہیڈ کواٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات حکومت نہیں کوئی اور کر رہے ہے۔
آئندہ اتنخابات ای وی ایم ٹیکنالوجی پر کروانے کے حکومتی فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ای وی ایم ٹیکنالوجی انتخابات کے لئے کار آمد نہیں۔ ای وی ایم مشین پر الیکشن کمیشن نے خود اعتراضات اٹھائے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم چور اور دھاندلی والوں سے اصلاحات قبول نہیں کرینگے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ۔ جس نے چوری کے خلاف شور مچایا تھا آج انہیں کے نام پینڈورا پیپرز میں شامل ہے۔ حکومت کو فاٹا انضمام کی جلدی تھی تو سابقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کیے جائیں۔ ہر سال 100 ارب کا وعدہ کیا گیا لیکن تین سال میں صرف 60 اراب روپے بجٹ جاری ہوا۔
مولانا فضل الرحمان کا حالیہ مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت نے معیشت تباہ اور برباد کردیا، ملک کا پیسہ ڈوب چکا ہے، ڈالر کی آڑان جاری ہے اور 173 تک پہنچ چکا ہے۔ دنیا ہمارے ساتھ کاروبار اور مدد کیلئے تیار نہیں۔
مولابخش چانڈیو کی تنقید
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ حکومت کے وزراء کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں ، اب وزیراعظم اپنے وزراء کو این آر او دیں ، آپ نے سوائے دوسروں کو چور چور کہنے کے کیا کیا ہے۔
حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ نواز شریف مسلم لیگ کو اچھی پارٹی بنانے میں کامیاب ہوئے مگر وہ علاقائی لیڈر ہیں ، جب ان کی بات آتی ہے تو انہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا عمران خان کا بھی یہی حال ہے، ان کی سوچ بھی علاقائی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ایک رکن جن کا چینی اور گندم کی چوری میں نام آیا حکومت نے انہیں چینی چور نہیں مانا لیکن وہ جہاں جاتے ہیں لوگ انہیں چور کہتے ہیں۔
مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ خان صاحب کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا آپ سے این آر او مانگ کون رہا ہے ۔
انہوں نے عمر شریف کے انتقال پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ عمر شریف اس ملک کے محترم بیٹے تھے ، زمانے میں رلانے اور اس کے اسباب پیدا کرنے والے بہت ہیں جو لوگوں کو ایک منٹ خوشی کا موقع فراہم کرے میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ سندھ اور پاکستان کے لوگ بہت روئے ہیں ، عمر شریف کا دنیا سے جانا بہت بڑا نقصان ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔