دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت میں 180 ارب روپے اضافے کا انکشاف

قومی اسمبلی کی منصوبہ بندی کمیٹی میں دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت میں...
شائع 07 اکتوبر 2021 08:34pm

قومی اسمبلی کی منصوبہ بندی کمیٹی میں دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت میں ایک سو اسی ارب روپے اضافہ کا انکشاف ہوا ہے،اور ترقیاتی کام نہ ہونے پر حکومتی و اپوزیشن اراکین نے حکومت پر شدید تنقیدکی ہے۔

کمیٹی میں صالح محمد خان اپنی ہی حکومت کیخلاف پھٹ پڑے اور کہا وزارتوں کے چکر لگا رہے ہیں کوئی سنوائی نہیں۔

جنید اکبر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس، کمیٹی میں دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت میں 180 ارب روپے اضافہ کا انکشاف ہوا ہے،

اجلاس کو واپڈا حکام نے بتایا دیامر بھاشا ڈیم پر 480 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب نظر ثانی شدہ لاگت 653 ارب روپے ہوگی ہے۔

ترقیاتی کام نہ ہونے پر کمیٹی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت اراکین نے حکومت پر شدید تنقید کی۔

اپوزیشن رکن کمیٹی آغا رفیع اللّٰہ نے کہا صرف حکومت اور اسکے اتحادیوں کے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، بتایا جائے پی ایس ڈی پی کہاں جا رہا ہے،بعدازاں آغا رفیع اللّٰہ کمیٹی اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے آبی وسائل صالح محمد خان اپنی ہی حکومت کیخلاف پھٹ پڑےاور کہا منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کیلئے ہم وزارتوں کے چکر لگا لگا کرتھک گئے کوئی سنوائی نہیں ہوتی، اراکین پارلیمنٹ کی تذلیل ہو رہی ہے۔

ن لیگی رہنما احسن اقبال بولے حکومت نے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں این ایچ اے نے مہنگے منصوبے بنائے، 95 فیصد سڑکیں سی پیک کے تحت بنی ہیں یا تو چینی کمپنیوں نے پیسے کھائے ہیں یا پھر ایف ڈبلیو نے، کون حکومت کو غلط بریفنگ دے رہا ہے۔ ہم اپنی پگڑیاں کسی کو نہیں اچھالنے دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سماجی و ترقیاتی ناہمواری پیدا ہورہی ہے، حکومت نیشنل اکنامک کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے اور ایکشن پلان بنائے ۔