این اے 75 ڈسکہ: پریزائڈنگ افسران کی گمشدگی ،جوڈیشل کارروائی کا فیصلہ
این اے 75 ڈسکہ میں پریزائڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے انکوائری رپورٹ پر جوڈیشل کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
این اے 75 ڈسکہ میں پریزائڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر ذرائع نے الیکشن کمیشن نے انکوائری رپورٹ پر جوڈیشل کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب کی انکوائری پر کھلی عدالت میں سماعت ہوگی۔ ذرائع کا مذید کہنا تھا الیکشن کمیشن کی جانب سے ذمہ داران کو باضابطہ نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کے رواں ہفتے ہونے والے اجلاس میں رپورٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ واضح رہے الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں نتائج روک کر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔
ڈسکہ الیکشن، بدنظمی ، پریزائڈنگ افسران غائب
پہلے این اے پچھتر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ریٹرننگ افسر نے پریزائیڈنگ افسران کی مبینہ گمشدگی اور تاخیر سے آنے کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ۔ جس میں انہوں نے پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے نتائج میں رد و بدل کا اعتراف کرلیا ۔
ریٹرننگ افسر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے دوران پریزائیڈنگ افسران حیرت زدہ اور خوفزدہ تھے ۔ سب کے بیانات ایک جیسے تھے ۔ چودہ پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران اور لیگی اُمیدوار کے نتائج میں فرق ہے ۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ کے پندرہ سو تینتالیس ووٹ کم ہوئے۔
این پچھتر کے ضمنی انتخاب کا دنگل میں ریٹرننگ افسر نے پریزائیڈنگ افسران کی جانب سےدھاندلی کااعترف کرلیا۔
ریٹرننگ افسر اطہر عباسی نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا آٹھ پریزائیڈنگ افسران کے جواب ایک جیسے تھے، آٹھ پریزائئڈنگ افسران نے کہا کہ دھند کے باعث وہ ساڑھے چار بجے ریٹرننگ آفس پہنچے ۔
رپورٹ کے مطابق آٹھ پریزائیڈنگ افسران نے وٹس ایپ پر نتائج نہ بھیجنے پر کہا کہ انکے فون کی بیٹری ختم ہوگئی تھی ۔ تحقیقات کے دوران پریزائیڈنگ افسران حیرت زدہ اور خوفزدہ تھے ۔ پریزائیڈنگ افسران نے بہانا بنایا کہ ٹرانسپورٹ خراب ہوئی اور وٹس ایپ کام نہیں کر رہا تھا ۔ چودہ پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران اور لیگی اُمیدوار کے نتائج میں فرق ہے ۔ بظاہر پریذائیڈنگ افسران نے نتائج تبدیل کیے ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افسران کے فارم پینتالیس کے مطابق متعلقہ پولنگ اسٹیشنز پر اٹھارہ ہزار ووٹ ڈالے گئے ۔ پی ٹی آئی، اُمیدوار کو بارہ ہزار سات سو تریسٹھ اور لیگی اُمیدوار کو پینتیس سو ووٹ ملے ۔ ووٹنگ کا تناسب 75 فیصد رہا , لیگی اُمیدوار کے فارم پینتالیس کے مطابق اُنہیں پانچ ہزار اور پی ٹی آئی کو چھ ہزار سات سو پانچ ووٹ ملے ۔ ووٹ ڈالنے کی شرح پینتالیس فیصد رہی ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔