Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

مصر میں ایک خاتون فارماسسٹ کو کام کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے عوامی حلقوں میں غصے کی لہرا دوڑا دی۔ واقعہ الشرقیہ صوبے کے کفر عطاء اللہ گاؤں کے ایک طبی مرکز میں پیش آیا جہاں نوجوان خاتون ایزیس مصطفی کو اس کی ساتھی خواتین نے حجاب نہ پہننے پر زدوکوب کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق واقعے سے متعلق ویڈیو کلپ میں طبی مرکز کی دو خواتین ایزیس کو بری طرح پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ خواتین نے ایزیس کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹنے کی بھی کوشش کی تاہم مرکز کے دیگر ملازمین نے خاتون فارماسسٹ کو مزید تشدد سے بچایا۔

عینی شاہدین کےمطابق ایزیس کواپنی ساتھی خواتین کی جانب سے ایک عرصے سے خراب برتاؤ کا سامنا تھا۔ اس روز ان خواتین نے ایزیس کو حاضری کے رجسٹر میں دستخط کرنے سے روک دیا۔ اس پر معاملہ جھگڑے اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔

نوجوان فارماسسٹ نے اپنی دیگر تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں اس پر جسمانی تشدد اور حملے کے نشانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔

الشرقیہ صوبے کے گورنر ممدوح غراب نے پیر کی دوپہر ایزیس مصطفی کو دعوت دی تا کہ واقعے پر معذرت پیش کر سکیں۔

ساتھ ہی گورنر نے واقعے کی وسیع تحقیقات اور تمام قانونی اقدامات کیے جانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔