Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائل گروسی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری ٹھکانوں کے سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج آئی اے ای اے کے حوالے کرنے سے انکار ایک خطرناک تصرف ہے جس کے سنگین بین الاقوامی اثرات ہوں گے۔ یہ صورت حال زیادہ طویل عرصے جاری نہیں رہ سکتی۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز بتایا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے کہا "ہم شدید ابرآلود بادلوں کے بیچ اڑ رہے ہیں.ہم عارضی طور پر اس صورت حال کو جاری رکھ سکتے ہیں مگر طویل مدت کےلئے نہیں"۔

گلاسگو میں موسمیات سےمتعلق اقوام متحدہ کےسربراہ اجلاس کے ضمن میں گروسی کا کہنا تھا "اگر انہوں (ایرانیوں) نے پر امن مقاصد کےلئے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے کا سنجیدہ ارادہ کیا ہے تو ان پر لازم ہے کہ اس بات کی ضمانت پیش کریں"۔

گروسی کے مطابق جوہری تنصیبات کے گرد سخت سیکیورٹی اقدامات کے نتیجے میں ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ براہ راست اور اعلی سطح کی بات چیت کے واسطے جلد تہران کا دورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو یہ ذمے داری سونپی گئی تھی کہ وہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی نگرانی کرے۔ یہ سمجھوتا مشترکہ جامع عملہ منصوبے کے نام سے معروف ہے۔ اس کا مقصد ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے عوض تہران کی جوہری سرگرمی پر قدغن لگانا ہے۔

تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مئی 2018ء میں امریکا نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی اور ایران پر دوبارہ سے کئی پابندیاں عائد کر دیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام بھی معاہدے کے متن میں درج شقوں سے دست بردار ہونا شروع ہو گئے۔

آئی اے ای اے کے معائنہ کار فروری 2021ء سے اب تک ایران کے جوہری ٹھکانوں کے سیکیورٹی کیمروں یا یورینیم کی افزودگی کی برقی نگرانی کی تصاویر حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ تہران جوہری بم کی تیاری کےلئے مطلوب مہارت اور معلومات حاصل کر رہا ہے.اس کے سبب ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو.