Aaj.tv Logo

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر نئے کرنسی نوٹوں کے کچھ ڈیزائن گردش کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری پیغام میں مرکزی بینک نے وضاحت کی ہے کہ نئے کرنسوں نوٹوں کی اشاعت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، نئے کرنسی نوٹوں کی اشاعت سے متعلق کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں اور نئے ڈیزائن سے متعلق تصاویر جعلی ہیں۔

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پشاور یونیورسٹی نے پلاسٹک کرنسی کے ڈیزائن تیار کر لیے ہیں۔ جعلی کرنسی کے خاتمے کے لئے نئے اور جدید پلاسٹک کرنسی لانے کے اس منصوبے پر مزید کام بھی ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے سنیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو کافی عرصے سے پلاسٹک کرنسی لانے کا کہا جا رہا ہے، اسٹیٹ بینک بھی پلاسٹک کرنسی لانے پر کافی عرصے تک کام کرتا رہا ہے لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا، نہ ہی اسٹیٹ بینک ایسا کوئی منصوبہ سامنے لایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جعلی کرنسی کی بھرمار ہے جس کے ہاتھوں شہری بھی پریشان ہیں۔ جعلی کرنسی کے خاتمے کے لیے ہی ایک ایسی کرنسی لانا ہوگی جس کی جعلی کاپیاں بنانا ناممکن ہو گا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پلاسٹک کرنسی لانے سے متعلق منصوبے کے تحت 50 روپے ،100 روپے ،500 روپے اور 1 ہزار روپے کے پلاسٹک نوٹ لانے کا پلان دیا گیا ہے۔ نئے پلاسٹک نوٹوں کا ڈیزائن پشاور یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ فائن آرٹس کے طالبعلم نور الحسن نے تیار کیا۔