Aaj.tv Logo

سیالکوٹ واقعے کی سوشل میڈیا صارفین بھرپور الفاظ میں مذمت کررہے ہیں ، سیالکو ٹ میں ایک نجی فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو تشدد کرکے ہلاک کردینے کا واقعہ رونما ہوا ، اور واقعے کی ویڈیو بھی سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہورہی ہے ۔

سیالکوٹ میں وزیرآباد روڈ پر موجود نجی فیکٹریوں کے مزدوروں نے مبینہ طور پر ایک فیکٹری کے ایکسپورٹ منیجر پر حملہ کر کے اسے قتل کرنے کے بعد لاش جلا دی۔

واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائر ہورہی ہے، وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ سینکڑوں افراد کا ہجوم ایک جگہ جمع ہے جو کہ لاش کی بے حرمتی کررہا ہے جس پر صحافیوں اور دیگر اہم شخصیا ت کی جانب سے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ مقتول فیکٹری منیجر نے ایک پوسٹر پھاڑ دیا تھا اورسوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی ہیں کہ اس پر مذہبی مواد درج تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیالکوٹ کے ڈسٹرک پولیس آفیسر عمر سعید ملک کا کہنا ہے کہ مقتول کو پریانتھا کمارا کے نام سے شناخت کیا، اور یہ سری لنکا کا شہری تھا۔

واقعے کے فوری بعد مشتعل افراد کے حملے کی وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تو لوگوں نے ٹوئٹر پر اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔

واقعے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ محض نوٹسز سے کام نہیں چلے گا معاشرہ "انتہا پسند" ہوتا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے گزشتہ برسوں سے حکومت کی عدم توجہی اور ریاست کی انتہا پسندانہ پالیسیاں اس ملک کو عدم برداشت کا شکار بنا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کب اور کیسے سبق سیکھیں گے اور اس واقعے کے بعد کس کو مورد الزام ٹھرایا جانا چاہیئے۔

سینئر صاافی مبشر ذیدی نے اپنے ٹوئیٹ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ "اب نہیں کوئی بات خطرے کی، اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے"، جب کہ سینئر صافی کے ٹوئیٹ کے جواب میں لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

سیالکوٹ واقعے پرردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما ذلفی بخار ی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ " ہم آج ایک شرمندہ قوم ہںل، ساہلکوٹ مںے سری لنکن شہری کا مشتعل ہوکر قتل کرنا انسانتط کی کم ترین سطح پر ہے۔ انہوں مزید کہا کہ کوئی بھی مذہب ایسا نہںی ہے جو اس طرح کی بربریت پر ینرن رکھتا ہو یا اس کی تبلغں کرتا ہو، ہمںد تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہے۔

اس واقعے کے سلسلے میں چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر محمود اشرفی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں غیر ملکی منیجر کا قتل افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجرمین کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجر کو قتل کرنے والوں کا عمل غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے۔

اسی اثنا میں سماجی رہنما نگہت داد نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی سا لکوٹ واقعے کی گرافک ویڈیو/تصاویر شئرت کرنا بند کریں۔ کم از کم، ہم بناودی انسانی وقار کا احترام کر سکتے ہںل اور توہن رسالت کے نام پر کسی انسان کے تشدد اور بالآخر مارے جانے کے خوفناک مناظر کو شئرن نہںت کر سکتے۔