Aaj.tv Logo

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ‏اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مشیرمعید یوسف نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔

اسپیکراسد قیصر کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بائیکاٹ کیا تاہم حکومتی اراکین نے بھی عدم دلچسپی کا اظہار کیا ۔

اجلاس سے وزیر خارجہ ، وزیر دفاع ، وزیر ریلوے ، وزیر ہاوسنگ اور وزیر منصوبہ بندی سمیت دیگر وزرا اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

اجلاس میں مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بریفنگ دیتے ہوے بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی کا مسودے وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ۔

مسودے میں ملک کی معیشت ، ملٹری ، خارجہ ، معاشی ، فوڈ اور آبی سیکیورٹی شامل ہے ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، مسئلہ کشمیر و افغانستان اور خطے کے دیگرممالک سے تعلقات بھی شامل ہیں۔

اجلاس میں وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی سلامتی کے امور پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، قومی سلامتی ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔

اجلاس کے بعد وزیرداخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے شرکت نہیں کی انکو کل کے الیکشن سے سبق سیکھنا چاہیئے۔

ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے اپوزیشن کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بائیکاٹ سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ اپوزیشن کے سیکیورٹی خدشات ہو سکتے ہیں ۔