'کیا آرڈیننس ختم ہونے پر بھرتی ہونے والے ملازمین رہ سکتے ہیں؟'
سرکاری ملازمین بھرتی نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس عطابندیال نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا آرڈیننس ختم ہونے پر بھرتی ہونے والے ملازمین رہ سکتے ہیں؟
سپریم کورٹ میں سرکاری ملازمین بھرتی نظرثانی درخواست پرسماعت ہوئی۔
سماعت میں جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیےکہ کیا آرڈیننس ختم ہونے پر بھرتی ہونے والے ملازمین رہ سکتے ہیں؟جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ آرڈیننس تو جمہوری طریقہ کارہی نہیں ہے پھر تو ہر حکومت آرڈیننس لائے بھرتیاں کرے،ایسے تو سارے کام آرڈیننسزسے ہی چلتے رہیںگے۔
جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی ، سوئی سدرن گیس کے وکیل حامد خان نے دلائل میں موقف اپنایا کہ 1122ملازمین 1996میں بھرتی ہوئے، 1997 اور1999میں نوکری سے برطرف کیا، فیڈرل سروس ٹربیونل نے پھر بحال کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا، جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے ملازمین کو آپشن دیا۔
سماعت میں جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ عدالت نے بحالی کو دیکھنا ہے، آرڈیننس،ایکٹ اور ہائیکورٹ تینوں کے الگ الگ مضمرات ہونگے ، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ایکٹ صرف خاص گروپ کو ریلیف دینے کیلئے کیوں بنایا گیا ؟ قانون سازوں کے ذہن تونہیں پڑھ سکتے، لیکن پیش کی گئی دستاویزات بھی خاموش ہیں۔
سماعت میں رضا ربانی نے دلائل میں موقف اپنایا کہ ایکٹ کا کوئی بھی سیکشن بنیادی حقوق یا آئین کے خلاف نہیں۔
ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ کتنے ملازمین حکومت اداروں اور کتنے خود مختار داروں سے ہیں،کس ادارے نے ملازمین کی تقرری کیلئے کیا طریقہ کار اپنایا، عدالتی فیصلوں کے باوجود کیا ملازمین کو یوں بحال کیا جا سکتا تھا، پہلے حکومت نے مخالفت کی اوراب حمایت کی کیا وجہ ہے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 13 دسمبرتک ملتوی کردی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔