منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کیخلاف چالان جمع
ایف آئی اے نے بینکنگ جرائم عدالت میں شہباز شریف کیخلاف چالان جمع کروا دیا۔
چالان میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا مرکزی ملزم قرار دیدیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے بینکنگ جرائم عدالت نمبر ایک میں 7 جلدوں اور 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل چالان جمع کرایا گیا۔
شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت 17 ملزمان کو چالان میں نامزد کیا گیا۔ 14 بے نامی دار ملازمین اور 6 سہولت کاروں کو چالان میں شریک ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا۔ 2008 سے 2018 تک شہباز شریف کے ملازمین کے ناموں پر اکاؤنٹ چلائے گئے، اس عرصہ میں شہباز شریف وزیراعلیٰ اور حمزہ شہباز ایم این اے تھے۔
چالان میں کہا گیا کہ 28 اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے سے زائد مالیت کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، شہباز شریف 5 ملین امریکی ڈالرز کی منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث تھے۔
چالان میں الزام عائد کیا گیا ہے شہباز شریف نے صادقہ سید کے نام سے اسحاق ڈار کی مدد سے جعلی ٹی ٹیز کروائیں۔
منی لانڈرنگ اسکینڈل،شہباز شریف اور حمزہ کی عبوری ضمانت میں توسیع
اس سے قبل بارہ دسمبر کو بینکنگ عدالت نے شوگر انکواٸری کیس میں منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 16 دسمبر تک توسیع کی تھی،جبکہ چالان جمع نہ کروانے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
بینکنگ جرائم عدالت ون کے جج سردار طاہر صابر کی رخصت پر جج محمد اسلم گوندل نے کیس کی سماعت کی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود چالان کیوں پیش نہیں کیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر معظم حبیب نے عدالت کو بتایا کہ سات والیم پر مشتمل چالان تیار ہے، ایف آئی اے کے بورڈ نے منظوری کے بعد چالان سپیشل جج سینٹرل کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ابھی آپ کی عدالت کے دائرہ اختیار پر درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا، آپ نے خود ہی فیصلہ کر لیا کہ چالان سپیشل جج سینٹرل کے پاس جمع کروانا ہے۔ آپ عدالتی حکم کے مطابق چالان عدالت نمبر ایک میں جمع کروائیں۔
عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے چالان جمع نہ کروانے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔