افغانستان پر او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس،اسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنیکا فیصلہ
افغانستان پر او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس کے انعقاد کے پیش نظراسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق موبائل سروس 17 دسمبر سے 19 دسمبر تک بند کی جائیگی ۔
وزارت داخلہ نے موبائل سروس بند کیلئے پی ٹی اے کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔ جس کے مطابق او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس کے انعقاد کے پیش نظراسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
موبائل سروس اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ریڈ زون کے علاقے تک بند کی جائے گی ۔
'امید ہےدنیاافغانستان سےعلیحدگی جیسی غلطی نہیں دہرائےگی'
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت افغانستان سےمتعلق ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ ، وفاقی وزراء، انٹیلی جنس حکام اورسینئرسول وملٹری افسران نے شرکت کی ۔ شرکاء نےافغانستان میں ہنگامی صورتحال پرتشویش کااظہارکیا ،
اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امید ہےدنیاافغانستان سےعلیحدگی جیسی غلطی نہیں دہرائےگی۔ عالمی برادری افغانستان کےکمزورلوگوں کی مددکرے ۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شرکاء نے افغانستان میں ہنگامی صورتحال پرتشویش کا اظہارکیا۔
اجلاس میں پاک افغان بارڈرکی تازہ صورتحال پربھی غورکیا گیا ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان آئےافغان شہریوں کومفت کوروناویکسین کی سہولت جاری رہےگی،افغان شہریوں کیلئےویزےکاحصول بھی آسان کردیاگیاہے، شرکا نے افغانستان کوانسانی بنیاد پرہرقسم کی معاونت فراہم کرنے پراتفاق کیا ۔
اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امید ہےدنیاافغانستان سےعلیحدگی جیسی غلطی نہیں دہرائےگی ۔ عالمی برادری افغانستان کےکمزورلوگوں کی مددکرے۔ پاکستان انسانی بحران سےنمٹنےکیلئےافغانستان کوہرممکن مددفراہم کرے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نےپہلےہی مالی طورپرافغانستان کی مددکاعہد کر رکھاہے۔ غذائی اجناس،ہنگامی طبی سامان اورمالی مددکی فراہمی جاری رہےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کوضرورت کےوقت تنہاچھوڑناکسی کےمفادمیں نہیں۔ پاکستان نےافغان عوام کےلیے5ارب روپےکی امدادمختص کی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان اتوارکواوآئی سی ممالک کےوزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے۔
اجلاس میں افغان عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا جائے گا اور مدد پر گفتگو ہوگی ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔