اکتالیس سال بعد پاکستان او آئی سی کانفرنس کا میزبان ۔ ۔ ۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں پاکستان، 41 سال کے بعد 19 دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، مقصد، لاکھوں افغانوں کو درپیش انسانی بحران کے تدارک اور ان کی معاونت کی جانب عالمی برادری کی توجہ لانا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ کی زیر صدارت سابقہ خارجہ سیکرٹریز، سفراء اور حکومتی ترجمانوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیٹھک میں شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے مقاصد اور افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وہ بولے آج دنیا سمجھتی ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں، افغانستان کی صورت حال پر قابو پانے کیلئے افغانستان کی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہوگا، مسلم امہ کی اجتماعی آواز ہونے کے ناطے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے او آئی سی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 95 فیصد افغانوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو گذشتہ بیس سال سے استحکام اور امن و امان کیلئے کی گئی کوششیں خاک میں مل جائیں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سردی کی وجہ سے افغانستان میں صورتحال بھیانک ہو سکتی ہے، افغان چاہتے ہیں کہ انہیں توقعات پر پورا اترنے کیلئے تھوڑا وقت دیا جائے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔