او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس، تمام مندوبین اسلام آباد آئیں گے
او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے تمام مندوبین اسلام آباد آئیں گے، دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت میں اجلاس کے حوالے سے تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شاہراہوں کو رنگ برنگی قمقموں اور خوبصورت بینرز سے سجا دیا گیا ہے۔
مہمانوں کوخوش آمدید کہنے کیلئے سڑکیں سجا دی گئیں، برقی قمقمے جگمگا رہے، گرین بیلٹس موسمی پھولوں کے رنگ بکھیر رہے۔
او آئی سی وزراء خارجہ کو خوش آمدید کہنے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی شاہراہوں کو برقی قمقموں اور بینرز سے سجائے گئے ہیں ، شہری بھی مہمانوں کیلئے ہونے والی سجاوٹ اور تیاریوں پر اطمنان کا اظہار کر رہے ہیں۔
اجلاس کے لیے سکیورٹی پلان کو بھی حتمی شکل دے دی گئی، ریڈ زون میں کسی قسم کے غیرمتعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہوگا جبکے عام ریڈزون کی شاہرات بھی عام ٹریفک کیلئے بند ہوںگی۔
اکتالیس سال بعد پاکستان او آئی سی کانفرنس کا میزبان ۔ ۔ ۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں پاکستان، 41 سال کے بعد 19 دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، مقصد، لاکھوں افغانوں کو درپیش انسانی بحران کے تدارک اور ان کی معاونت کی جانب عالمی برادری کی توجہ لانا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ کی زیر صدارت سابقہ خارجہ سیکرٹریز، سفراء اور حکومتی ترجمانوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیٹھک میں شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے مقاصد اور افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وہ بولے آج دنیا سمجھتی ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں، افغانستان کی صورت حال پر قابو پانے کیلئے افغانستان کی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہوگا، مسلم امہ کی اجتماعی آواز ہونے کے ناطے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے او آئی سی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 95 فیصد افغانوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو گذشتہ بیس سال سے استحکام اور امن و امان کیلئے کی گئی کوششیں خاک میں مل جائیں گی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔