Aaj.tv Logo

پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کون ہیں؟

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2022
معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر پھینکنا بند کریں،یہ صرف شروعات ہے،مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے انشاء اللہ۔سارہ گل/فیس بک۔
معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر پھینکنا بند کریں،یہ صرف شروعات ہے،مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے انشاء اللہ۔سارہ گل/فیس بک۔

کراچی:پاکستان نے ایک سنگِ میل عبور کرلیا،27سالہ سارہ گل نے پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کردی۔

سارہ گل نے اپنی تعلیم جامعہ کراچی سے الحاق شدہ ادارہ جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے حاصل کی۔

سارہ گل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈاکٹر بننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محنت اور عزم سے کوئی بھی چیز حاصل کی جا سکتی ہے، ڈاکٹر بننے کے لیے انہوں نے بہت محنت کی ہے۔

وومن آف پاکستان کے ایک انٹرویو میں سارہ نے کہا کہ : "اگر آپ کسی چیز کے بارے میں پرجوش ہیں تو آپ کو کوئی اس کو حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔،زندگی میں مشکلات آتی ہیں، میں پاکستان کو مشہور کرنا چاہتی تھی اور ڈاکٹر بننے کے بعد میرے والدین نے بھی مجھے قبول کیا ہے۔"

سارہ کا کہنا تھا کہ: "میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے کہنا چاہتی ہوں کہ امید نہ ہاریں،اگر میں ڈاکٹر بن سکتی ہوں تو آپ میں سے کوئی بھی محنت کر سکتا ہے اور کامیاب ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے اس بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح والدین اپنے ٹرانس جینڈر بچوں کو معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے گھروں سے باہر پھینک دیتے ہیں اور معاشرے کے لوگوں کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا:"معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر پھینکنا بند کریں،یہ صرف شروعات ہے،مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے انشاء اللہ،‘‘