Aaj.tv Logo

رپورٹ: احمد عدیل سرفراز

اسلام آباد: آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پرسماعت کے دوران سپریم کورٹ میں نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوسناک ہے اور جے یو آئی بھی اپنے ڈنڈے تیل سے نکالے۔

چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا5رکنی لارجربینچ آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پرسماعت کررہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی گزشتہ سماعت والا ہی مسئلہ ہے، مناسب ہوگاکہ وکلاء اور دیگرافراد باہرچلےجائیں، جوکھڑے ہیں لاونج میں سماعت سن لیں، اس سے پہلےکہ عدالت کوسختی سےباہر نکالنا پڑے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے معاملے پرصوبوں کونوٹس جاری کررہے ہیں، خیبرپختونخوااورسندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزموجودہیں، اگررش کم نہ کیاگیاتوکسی کودلائل کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس کا کہناتھا کہ سکرین بھی فکس کریں گے تاکہ باہرکارروائی دیکھی جاسکے، سیاسی جماعتوں کونوٹس کیے تھے وہ آج موجودہیں، کیاصوبائی حکومتوں کوبھی نوٹس جاری کریں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بارکی درخواست میں اسپیکرقومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے توصوبوں کونوٹس جاری کرسکتی ہے، صوبوں میں موجودسیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کاحصہ ہیں۔

جس پر عدالت عظمیٰ نے صوبائی حکومتوں کوبھی صدارتی ریفرنس پرنوٹس جاری کردیئے۔

رضا ربانی نے عدالت میں کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کوبعدمیں سنیں گے،بیٹھ جائیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے عدالت کے حکم پر گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یوآئی اورپی آئی ٹی نےضلعی انتظامیہ سےملاقات کی، جے یوآئی نے کشمیرہائی وے پردھرنے کی درخواست کی، کشمیرہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ایئرپورٹ کو جاتا ہے، کشمیرہائی وے سے گزر کر تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتےہیں، قانون کسی کوووٹنگ سے48 گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتاہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کےدفاع میں کھڑی ہوں ،معلوم نہیں عدم اعتماد پرووٹنگ کب ہوگی،تمام جماعتیں جمہوری اقدار کی پاسداری کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےریمارکس دیئے کہ جمہوری عمل کامقصد روزمرہ امورکومتاثرکرنانہیں ہوتا،جس پرجے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیاہےکہ قانون پرعمل کریں گے، ہمارا جلسہ اوردھرنا پرامن ہوگا۔

چیف جسٹس نے جے یو آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں ،جسٹس عمر عطاء بندیال کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے لگ گئے۔

جے یو آئی کے وکیل نے کہا کہ انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے کبھی ایک گملہ بھی نہیں توڑا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یوآئی پرامن رہےتومسئلہ ہی ختم ہوجائےگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب پہلے آپ کوسنیں گے، ہم نے سیاسی جماعتوں کوبھی نوٹس جاری کررکھے ہیں، کیاآپ سمجھتے ہیں ہم صوبوں کوبھی نوٹس جاری کریں؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں صوبوں کاکردارنہیں،ہرعدالت کی صوابدیدہے،وزارت اعلیٰ کیخلاف عدم اعتمادکی تحاریک جمع نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے معاونت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیئے ۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رضاربانی صاحب آپ کوبھی سنیں گے،جس پر رضا ربانی نے کہا کہ میری درخواست پراعتراض عائدکردیاگیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم دیکھتے ہیں،پہلے جلسے کیخلاف کیس سن لیں۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے یوآئی کاجلسہ توعدم اعتمادپرووٹنگ سے پہلے ہے؟جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ متعلقہ حکام کوجلسے کے بار ے میں عدالتی احکامات سے آگاہ کیا، قانون کے مطابق ووٹنگ کے دوران دھرنانہیں دیاجاسکتا، قانون کہتاہے 48 گھنٹے پہلے جگہ خالی کرنی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا ءبندیال نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب ہم نے قانون دیکھناہے، انتظامی امورمیں مداخلت نہیں کرسکتے،ہم نے آئین کودیکھناہے،جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ ہدایت دے جلسے کے دوران ماحول پرامن رہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ہم نے کہاہے کہ ہم پرامن رہیں گے جبکہ جے یو آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کافیصلہ انتظامیہ کوکرنے دیں۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آئی جی اسلام آبادسے بات ہوگئی ہے، پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بات یہ ہے پولیس قانون کے مطابق کارروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طورپراپنے جواب جمع کرائیں، تحریری جواب آنے پرصدارتی ریفرنس پرسماعت میں آسانی ہوگی۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ہم نے کہاہے کہ ہم پرامن رہیں گے،جے یو آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کافیصلہ انتظامیہ کوکرنے دیں۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آئی جی اسلام آبادسے بات ہوگئی ، پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بات یہ ہے پولیس قانون کے مطابق کارروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طورپراپنے جواب جمع کرائیں، تحریری جواب آنے پرصدارتی ریفرنس پرسماعت میں آسانی ہوگی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کامران مرتضیٰ نے پر امن دھرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔

جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈابردارٹائیگرفورس بناناافسوسناک ہے ،جے یو آئی بھی اپنے ڈنڈے سے تیل نکالے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ تمام جماعتیں جمہوری اقدارکی پاسداری کریں۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے یوآئی نے کہاوہ کشمیرہائی وےپرجلسہ کریں گے، بتایا گیا جے یوآئی نے جلسے کے بعد کشمیر ہائی وے پردھرنے کااعلان کیاہے، جس پر جے یوآئی کے وکیل نے کہاکہ دھرنا پرامن ہوگا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے یوآئی قانون کے مطابق مظاہرے کرے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی ارکان نے وزیراعظم کیخلاف ووٹ دینے کاکہا۔

اٹارنی جنرل نے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہاضمیرتنگ کررہاہے تومستعفی ہو جائیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ 1992 کے بعدسے بہت کچھ ہوچکا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہت کچھ ہوالیکن اس اندازمیں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بتایاجے یوآئی ف نے درخواست دی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ ریفرنس پردی گئی رائے پرسختی سے عملدرآمدکی پابندی پردلائل دوں گا، منحرف اراکین کے ٹی وی پر انٹرویوز نشرہوئے، پارٹی منشورپر الیکشن جیتنے والا وفاداری تبدیل کر ے تو اسے مستعفی ہونا چاہیئے، سپریم کورٹ کااس معاملے پرایک فیصلہ موجودہے۔

چیف جسٹس عمر عطا ءبندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ فیصلہ 1999 کاہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی بالکل اوراب 2022 ہے،آئینی ڈھانچے پردلائل دوں گا۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کاذکرہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈکلریشن پارٹی سربراہ جاری نہیں کرسکتا،اس کیلئے فورمزموجودہیں،سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیادہیں، عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دی۔