Aaj.tv Logo

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر ملک کے مخلتف شہروں میں دھرنے دیئے گئے جہاں مظاہرین کی جانب سے میڈیا ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

آج نیوز کے مطابق ملک کے مختلف شہروں سے اسلام آباد مارچ کرنے والے شرکاء کو روکنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سڑکوں پر کنٹینر کھڑے کردیئے جبکہ ٹرک کھڑے کرکے راستے بند کردیئے تھے۔

اسی اثنا میں مختلف شاہراہوں پر پولیس اورمارچ کے شرکاء کے درمیان چھڑپیں ہوئیں، جس دوران میڈیا ورکز کو بھی تشد کا نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں پولیس کی مظاہرین پرشیلنگ، میڈیا وکرز کو مشکلات

آج نیوز کے رپورٹرعثمان مظفر نے بتایا کہ مظاہرین میں بے انتہا جوش و ولولہ تھا جیسا کہ مذہبی جماعتوں کے جلسوں میں ہوتا ہے جبکہ مارچ میں پڑھے لکھے لوگ بھی شریک تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہرپانچ منٹ بعد شیل فائر کیے جارہے تھے، صبح کے وقت 11 ہزار، جبکہ سورج ڈھلنے کے بعد 13ہزار کے قریب شیل فائر کیے گئے۔

عثمان مظفر نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ہجوم پر مسلسل شیلنگ کی گئی، جس کی زد مین میڈیا ورکرز کو بھی مشکلات کا سامنا رہا ساتھ ڈی اسی این جی کو بھی نصان پہنچا۔

لاہور میں آج نیوز کی ٹیم پر حملہ

گزشتہ رات لاہور میں تقریباً ساڑھے 11 بجے کے قریب لبرٹی چوک پر تحریک انصاف کے کارکنان جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے۔

اسی دوران پی ٹی آئی کے چند کارکنان نے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا ساتھ ہی ڈی ایس این جی کا شیشہ لوہے کی راڈ مار کر توڑ دیا۔

واقعے کی الیکٹرانک میڈیارپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) کی جانب سے آج نیوز چینل کہ ڈی ایس این جی کو توڑنے اور اسسٹنٹ آپریٹرکو تشدد اور زدوکوب کرنے پر اظہار مذمت کیا۔

کراچی میں سماء کی ٹیم پر تشدد

نمائش چورنگی پر تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس میں تصادم 14 گھنٹے تک جاری رہا، اسی دوران آج نیوز کو سماء کے رپورٹر ذیشان مغل نے بتایا کہ ٹیم کے باقاعدہ تین افراد پر تشدد کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تشدد کا نشانہ بننے والوں میں ایک رپورٹر زم زم سعید، کیمرہ مین عمران خان اور ایک رپورٹر یاسر حسین شامل تھے جبکہ مظاہرین نے ٹیم کا کیمرہ بھی توڑ دیا جس میں فوٹیج ریکارڈ کی گئیں تھیں۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کا نیو نیوز پشاور کی ٹیم پرحملہ

آج نیوز کے رپورٹرعزم رحمان نے بتایا کہ نیو نیوز کی پشاور کی ٹیم جب اسلام آباد کی حدود میں پہنچی، تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نیو نیوز کے کیمرہ مین دوست محمد اور ڈرائیور محمد رازق کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

پی ٹی آئی کارکنوں نے نیو ٹی وی کی ڈی ایس این جی گاڑی کو ڈنڈے مارے جبکہ کارکنوں کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی ہدایت پر نیو ٹی وی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاہم کارکنوں نے ڈی ایس این جی ٹیم کو کوریج سے بھی روک دیا تھا۔