یہودی اور مسلمان ایک ساتھ رہ سکتے ہیں: اسرائیلی صدر
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتزوگ کا ماننا ہے کہ یہودی اور مسلمان ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
سویٹزرلینڈ کے علاقے ڈیوس میں میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ایک وفد سے ملے تھے، جنہیں پاکستانی ہونے پر بہت فخر ہے۔
"یہ ایک بہت اچھا تجربہ تھا کیونکہ ہمارے پاس اسرائیل میں کبھی بھی پاکستانی لیڈران کا کوئی گروپ نہیں رہا ہے۔"
ان کا ماننا تھا کہ ابراہم اکارڈ سے اب یہ ممکن ہے۔
"اس کا ماطلب ہے کہ یہودی اور مسلمان اور دیگر مذاہب کے افراد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔"
اسرائیلی صدر نے یہ بات ناروے کے سابق وزیر خارجہ کے سوال کے جواب میں کہی تھی۔
ناروے کے سابق وزیر نے اسرائیل کے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسرائیل کو ایک قوم کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ پاکستانی اسرائیل کے علاوہ کسی بھی ملک جا سکتے ہیں۔
تاہم ورلڈ اکنامک فورم کے دوران اسرائیلی صدر کا کہنا تھا اسرائیل کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ابراہم اکارڈ کے ذریعے ممکن ہے۔
ابراہم اکارڈ وہ معاہدہ ہے جو اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے درمیان اگست 2020 میں طے پایا تھا۔
اسرائیلی صدر نے رواں برس مارچ میں رجب طیب اردوغان سے ملاقات کے لیے ترکی کا دورہ کیا تھا۔ ان کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنی کی کوشش قرار دیا جارہا تھا۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔