Aaj News

کب تک خواتین غصے اور استحقاق کے ہاتھوں قتل ہوتی رہیں گی؟

ایازامیرکے بیٹےکے ہاتھوں اہلیہ کے قتل پر شوبز شخصیات اظہار افسوس
شائع 24 ستمبر 2022 11:37pm

کینیڈا کی شہریت رکھنے والی 37 سالہ مقتولہ سارہ کے شوہر کے ہاتھوں قتل پر شوبز شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کردیا۔

گزشتہ روز اسلام آباد کے نواحی علاقے چک شہزاد میں صحافی ایازامیرکی بہوسارہ کو ان کے بیٹےشاہنوازامیرنے 2 روزقبل لڑائی جھگڑے کے بعد قتل کردیا تھا، جمعرات 24 ستمبرکی شب پیش آنے والا یہ واقعہ میڈیا پرگزشتہ روزسامنے آیا۔

مقتولہ سارہ کی فیملی کینیڈا میں رہائش پزیرہونے کےسبب قتل کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ اوسب انسپکٹر نوازش علی خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے ملزم کا 2روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرتے ہوئےپولیس کی استدعا پرملزم کے والدین اورچچا،چچی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کب تک خواتین غصے اور استحقاق کے ہاتھوں قتل ہوتی رہیں گی اور انہیں آخر کب انصاف ملے گا؟۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کے لیے ایک اور طویل انتظار کرنا ہوگا، انصاف میں دیر کرنا انصاف نہیں ہے ۔

ماورا حسین کا کہنا تھا ابھی تک نور مقدم کے لیے ہمیں انصاف نہ مل سکا اور اب سارہ کے انصاف کے لیے ایک اور اپیل“۔

فریحہ الطاف نے لکھا کہ ’خواتین کا کوئی ملک نہیں‘۔

فریحہ الطاف نے بھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اسے ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنائیں اور اس خوفناک خبر کو دنیا تک پہنچائیں۔

اداکار عثمان مختار نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور خاتون کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

اداکارہ مہر بانو نے واقع کی مذمت کی

Comments are closed on this story.