ایوارڈ یافتہ گلوکار پر اپنے ہی گانے چوری کرنے کا الزام
پشتو زبان کے مشہور گلوکار سردار علی ٹکر کو اپنے بنائے اور گائے گئے گانوں پر کاپی رائٹ کلیم یعنی چوری کے الزام کا سامنا کرنا پڑگیا۔
خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ معروف گلوکار سردار علی ٹکر کو ان دنوں میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی جانب سے پریشانی کا سامنا ہے، یوٹیوب کی جانب گلوکار کو اپنے ہی گانوں اور دھنوں پر کاپی رائٹ کا دعوی کردیا ۔
اپنی ٹوئٹ میں گلوکار سردار علی ٹکڑ نے یوٹیوب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ براہ کرم کاپی رائٹ کے جعلی دعوے بھیجنا بند کریں، میں اس گانے کا گلوکار اور کمپوزر ہوں اور آپ مجھے کاپی رائٹ کے دعوے بھیج رہے ہیں، دوسری بات جب دعوے کا جواب دیتے ہیں کہ میرا ای میل ایڈریس غلط ہے یہ بہت آسان ہے دعویدار کی شناخت چیک کریں۔
انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ میں نے اپنے گانوں کو یوٹیوب، ایپل میوزک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنے کے لیے کبھی بھی کسی کو کاپی رائٹ نہیں دیا۔
گلوکار نے کہا کہ میں وکیل سے مشاورت کرنے اور ان تمام فریقوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا منصوبہ بنا رہا ہوں جو اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں، یوٹیوب میرے سینکڑوں گانے چلا رہا ہے جو غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پلیٹ فارم پر کوئی میری اجازت کے بغیر میرے گانے فروخت کر رہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے، میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا سوچ رہا ہوں۔
سال 2014 میں سردارعلی ٹکر نے نوبل امن انعام کی افتتاحی تقریب میں ملالہ یوسف زئی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ’تا بی بی شیرین اے‘گانا گیا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا ۔
واضح رہے کہ تقریبا ایک دہائی قبل سردار علی ٹکر اور ان کا خاندان عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے بعد کینیڈا اور پھر امریکہ ہجرت کر گئے تھے۔
سردار علی نے زیادہ تر 20ویں صدی کے معروف پشتو فلسفی شاعر خان عبدالغنی خان کا کلام گایا ہے جنہوں نے شاعری کے ذریعے مذہب میں شدت پسندی کی مخالفت کی۔
سردار علی ٹکر کو سال 2019 میں اعلیٰ سول ایوارڈ ’تمغہ امتیاز‘ سے بھی نوازا گیا تھا ۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔