Aaj News

جمعہ, مئ 24, 2024  
15 Dhul-Qadah 1445  

عام انتخابات میں تاخیر کی مخالفت کریں گے، بلاول زرداری

دہشتگردوں کےساتھ جرائم پیشہ افراد جیسا ہی سلوک ہونا چاہئے، بلاول
اپ ڈیٹ 05 جنوری 2023 07:53pm

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم عام انتخابات میں تاخیر کی مخالفت کریں گے۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرسن سے خطاب میں بلاول زرادی نے کہا کہ آج ذوالفقار علی بھٹوکی 95ویں سالگرہ ہے، ان کی سالگرہ پر سی ای سی کا اجلاس بلایا جس میں ذوالفقارعلی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

بلاول نے کہا کہ 1973 کے آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہوگئے ہیں، ہم نے 5 جنوری 2022 کو جمہوریت کیلئے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، پیپلز پارٹی نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا، ہماری تحاریک ہمیشہ کامیاب ہوتی ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم نے 18ویں ترمیم کے خلاف سازش کو ناکام بنایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اداروں کو آئینی دائرہ اختیار میں رہنا چاہئے، سابق آرمی چیف نے ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیا، اداروں نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا عزم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمان کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے، ملک میں تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے، کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاست میں ایک ضابطہ اخلاق تیار ہونا چاہئے، تمام جماعتوں کو اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا چاہئے،اس کی تیاری کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتوں سےرابطہ کریں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشتگرد اور انتہا پسند پاکستان اور انسانیت کےدشمن ہیں، دہشتگردوں کےساتھ جرائم پیشہ افراد جیسا ہی سلوک ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشتگردی پر پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جانا چاہئے، تمام پارلیمانی جماعتوں کو آن بورڈ لینا چاہئے، دہشتگردی کے خلاف مربوط حکمت عملی بنی چاہئے، معیشت کی بہتری کیلئےحکومت کو تجاویز دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی بروقت انتخابات کے حق میں ہے، پیپلز پارٹی انتخابات میں تاخیر کی حامی نہیں۔ عام انتخابات ہوں گے اور اپنے وقت پر ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا، ذوالفقار بھٹو کو انصاف نہ ملنے پر کارکنوں کو کیا جواب دیں۔ آئین دینے والے، پاکستان کو بچانے والے کو انصاف نہیں ملا، ذوالفقار بھٹو کو انصاف نہیں مل سکتا تو کس کو مل سکتا ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ وزیر قانون سے درخواست ہے کہ سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجیں یا عوام کو بتادیں کہ ہم ذوالفقار بھٹو کو انصاف نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے، پارلیمان کے ذریعے ہر مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے تھے کسی کو این آر او نہیں دوں گا، انہوں نے صرف دہشتگردوں کو این آر او دیا، ایک دہشتگرد کو جیل سے باہر، پھرملک سے باہر بھجوایا، ہم دہشتگردی کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں، ایم کیو ایم وفاق میں ہماری اتحادی ہے، انہیں سندھ میں گورنر شپ اور ایڈمنسٹریٹر دیا، لیکن ہم سے غیرآئینی وغیرجمہوری امیدیں نہ رکھی جائیں۔

بلاول نے کہا کہ ایم کیوایم اور پی ایس پی سے پوچھیں کس نے توڑا اور جوڑا، اچھی بات ہے اگر ایم کیو ایم اور پی ایس پی مل رہی ہے، پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری روایت کی حمایت کرتی ہے، ایک جماعت اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر بنی اور چلی، ایک جماعت کی تاریخ اسٹیبلشمنٹ سے جڑی ہے، وہ آج بھی جمہوریت کیلئے جدوجہد نہیں کررہے، وہ آج بھی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں، وہ شکایت کررہے ہیں، بچوں کی طرح رو رو رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے میرا ہاتھ کیوں چھوڑا، وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا ہاتھ پکڑو تاکہ ملک کا بیڑا غرق کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو اسٹیبلشمنٹ کی سیاست سے لاتعلقی کے اعلان پر دکھ ہے، پنجاب میں ریئل اسٹیٹ مافیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، دہشتگرد ریاست میں ریاست کا اعلان کرچکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں 100 سے زائد پولیس اہلکار شہید ہوئے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اہلکاروں کے جنازوں میں نہیں جاتے۔ پرویز الٰہی سینئر سیاستدان ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے سندھ کے 47 فیصد اسکول نہیں جاسکتے، متاثرہ علاقوں کا دورہ متاثرین کی داد رسی کیلئے کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھے کام کی تعریف نہیں کرسکتے تو تنقید بھی نہ کریں، عمران خان نے ملکی معیشت پر خودکش حملہ کیا، عمران خان نے عالمی اداروں کیساتھ معاہدوں کو توڑا، حکومت نے بڑی مشکل سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔

Bilawal Bhutto Zardari

general elections