Aaj News

ہفتہ, اپريل 13, 2024  
04 Shawwal 1445  

مولانا عبدالاکبر چترالی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں منشیات کے استعمال کا الزام لگا دیا

علی گوہر بلوچ نے مولانا عبدالاکبر چترالی کا الزام مسترد کردیا
شائع 24 جون 2023 10:44pm
فوٹو۔۔۔۔۔۔ اے پی پی
فوٹو۔۔۔۔۔۔ اے پی پی

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں منشیات کے استعمال کا الزام لگا دیا جبکہ رکن قومی اسمبلی علی گوہر بلوچ نے مولانا عبدالاکبر چترالی کا الزام مسترد کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی نشست صبح سے خالی ہے، یہاں بجٹ پاس ہو رہا ہے اور ایوان کی حالت دیکھ لیں۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گیا لیڈر؟ یہاں 25 کروڑ عوام کے لیے بجٹ منظور ہو رہا ہے۔

مولانا عبدالاکبر چترالی نے پالیمنٹ لاجز میں منشیات کے استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ منشیات کا استعمال یونیورسٹی اور کالجز کے بعد اب اسکولوں میں پہنچ گیا ہے، پارلیمنٹ لاجز اور اس کے اطراف میں بھی منشیات کا استعمال ہوتا ہے، ایک دن اپنے لاجز میں جارہا تھا تو بدبو کی وجہ سے ناک بند کرنا پڑی۔

رکن قومی اسمبلی علی گوہر بلوچ نے عبدالاکبر چترالی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اپنا علاج کرانا چاہیئے، لاجز میں اس قسم کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی، 5 سال سے ایسی کوئی سرگرمی نہیں دیکھی۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے کہا کہ سوئی شہر میں گیس کا بحران ہے اگر لائن بند کردیں تو اینٹی پاکستان کا الزام لگ جائے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے معاملہ متعلقہ وزارت کو بھیج دیا۔

محسن داوڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے مقامی لوگوں کو گیس نہیں مل رہی لیکن میانوالی تک گیس پہنچ گئی ہے، پیٹرولیم کا وزیر نہیں آتا، کس سے بات کریں؟۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج کر رپورٹ طلب کرلی۔

پیپلز پارٹی کے سید حسین طارق نے وزراء کے نہ آنے پر احتجاج کیا جبکہ ایم کیو ایم کے ابوبکر نے کراچی میں بجلی اور پانی کے نہ ہونے کا شکوہ کردیا۔

قومی اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات پر عالمی برادری کے تعاون سے متعلق قرارداد بھی منظور کی گئی۔

اسلام آباد

National Assembly

Jamat e Islami

parliment house

drugs

Raja Pervaiz Ashraf

molana abdul akbar chitrali

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div