سینکڑوں سمندری گھوڑے سڈنی ہاربر کے ’ہوٹلوں‘ میں آزاد چھوڑ دیئے گئے

تقریباً 380 نوعمر سمندری گھوڑوں کو پالنے کے بعد آزاد کیا گیا
شائع 21 جولائ 2023 06:52pm
پرورش پانے کے بعد تقریباً 380 نابالغ سفید سمندری گھوڑوں کو آزاد کیا گیا۔  تصویر/ دی گارڈین
پرورش پانے کے بعد تقریباً 380 نابالغ سفید سمندری گھوڑوں کو آزاد کیا گیا۔ تصویر/ دی گارڈین

سیکڑوں سمندری گھوڑوں کو سڈنی ہاربر کے ”ہوٹلوں“ میں منتقل کرنے سے متعلق مقامی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سمندری مخلوق کو آزاد چھوڑنے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

سڈنی انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس (سمز) کی زیر اثر پرورش پانے کے بعد تقریباً 380 نابالغ سفید سمندری گھوڑوں کو آزاد کیا ہے۔ ان کو جس جگہ پر آزاد کیا گیا ہے اسے ”سمندری گھوڑوں کا ہوٹل“ کہا جاتا ہے تاکہ یہ مزید عرصے تک ذندہ رہ سکیں۔

سائنسدان مچل برینن جنہوں نے ان سمندری گھوڑوں کی افزائش کی تھی کہتی ہیں کہ امید ہے کہ ہم انہیں آنے والے برسوں تک دوبارہ پیدا کریں گے تاکہ ان کی آبادی میں اضافہ ہو پائے۔

برینن کا شمار سڈنی سی ہارس پروجیکٹ پر کام کرنے والے سمز سائنسدانوں میں کیا جاتا ہے۔ جس کا آغاز 2020 میں وائٹ کے سی ہارس کو دنیا کی دوسری خطرے سے دوچار سمندری گھوڑوں کی نسل کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔

سائنس دان بڑی حد تک وائٹ سمندری گھوڑوں کی کمی کو سمندری گھاس، نرم مرجان کے ضائع ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کے ساتھ آبائی مسکن بناتے ہیں۔

جنوری میں پروجیکٹ ٹیم نے تین حاملہ نر سمندری گھوڑوں کو اکٹھا کیا، جنہوں نے سمز ایکویریم میں سی ہارس فرائی کو جنم دیا۔

واضح رہے کہ سمندری گھوڑوں کو آزاد کرنے سے پہلے ان کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے 24 گھنٹے میں ان کا خصوصی خیال رکھا گیا تھا۔

مچل برینن نے کہا کہ انہیں بند ماحول میں دیکھ بھال کرنا کافی مشکل ہو سکتا ہے وہ کافی حساس ہوسکتے ہیں۔ ان کا پیٹ نہیں ہے اس لیے انہیں مسلسل کھانا پڑتا ہے، تو ہم نے انہیں تقریباً مسلسل زندہ جھینگا غذا کے طور پردیا۔

سائنسدان مچل برینن پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں، جو وائٹ سی ہارس کے تحفظ کے طریقوں پرتحقیق میں مشغول ہیں، وہ سمندری گھوڑوں اور سی ڈریگنز پر ہمیشہ سے کام کرنا چاہتے تھے۔

Sea Horses

Sydney Harbour