Aaj News

منگل, مئ 21, 2024  
12 Dhul-Qadah 1445  

عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا امکان

عمران خان کا جیل ٹرائل بھی کیا جا سکتا ہے، ایڈوکیٹ شاہ خاور
شائع 29 اگست 2023 03:21pm
فوٹو — اے ایف پی
فوٹو — اے ایف پی

توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ معطلی کے بعد سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا امکان ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل ایڈووکیٹ شاہ خاور کا برطانوی نشریاتی دارے (بی بی سی) اردو کو بتایا کہ سزا معطلی کے باوجود عمران خان کا جیل سے باہر آنا بظاہر مشکل ہے کیونکہ ایف آئی اے نے اٹک جیل میں ان کی گرفتاری ڈال کر انھیں شامل تفتیش کر رکھا ہے۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ اگر توشہ خانہ کیس میں ان کی رہائی عمل میں آتی ہے تو اس کے باوجود وہ دوسرے مقدمات میں گرفتار رہیں گے۔

ادھر اب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں ہی قید رہیں گے یا انہیں دوسرے ٹرائلز کے دوران کسی اور جیل میں منتقل کیا جائے گا۔

اس پر ماہر قانون شاہ خاور نے بتایا کہ عمران خان کو اٹک، اڈیالہ یا کسی بھیئ جیل میں رکھنے کا فیصلہ وزارت داخلہ کرے گا، البتہ سزا یافتہ شخص کو کسی بھی جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ سزا معطلی کی صورت میں ایف آئی اے کا کیس اسلام آباد میں درج ہے لہٰذا انیں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل لایا جاسکتا ہے یا دوسری صورت میں ان کا جیل ٹرائل بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسی حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کے بھی امکان موجود ہیں کہ سائفر کیس میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کا جیل ٹرائل اٹک جیل میں ہی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:

انتخابات کے لیے عمران خان کی نااہلیت کا کیا ہوگا؟

عمران خان کی رہائی کا جشن منانے کے لئے جیل آنے والے 9 افراد گرفتار، بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

کسی اور مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، عمران خان کی ایک اور درخواست دائر

تاہم سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن شعیب شاہین نے کہا کہ اصولی طور پر جب اس کیس میں رہائی ملتی ہے تو انہیں وقت دیا جائے گا کہ دوسرے کیسز میں بھی اپنی ضمانت کروا لیں، مگر اس ملک میں حکومت کیا کرتی ہے، ہمیں اگلے لمحے کا نہیں معلوم ہوتا۔

imran khan

Islamabad High Court

pti chairman

adiala jail

Cypher Investigations

OFFICIAL SECRETS ACT

District Jail Attock