Aaj News

سیارہ زحل کے چاند میں سمندر دریافت

اس چاند پر زندگی پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے، ماہرین فلکیات
شائع 11 فروری 2024 08:42pm

فرانسیسی ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیارے زحل کے چاند پر پانی دریافت کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ”ایسوسی ایٹڈ پریس“ کے مطابق فرانسیسی ماہرینِ فلکیات کی ایک ٹیم نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ انہوں نے زحل کے چاند ”میماز“ کے مدار میں تبدیلیاں نوٹ کی ہیں اور ان کے تجزیے کے مطابق اس مردہ ستارے نما چاند کی منجمد سطح کے 20 سے 30 کلومیٹر نیچے ایک سمندر پایا جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے یہ تجزیے امریکی خلائی ایجنسی ”ناسا“ کے ”کیسینی اسپیس کرافٹ“ کے زریعے کیے گئے مشاہدات کی بنیاد پر قائم کیے ہیں۔

”کیسینی“ نامی اس خلائی جہاز نے 2017 سے قبل ایک دہائی کے دوران زحل کے 140 سے زائد چاندوں کا مشاہدہ کیا اور پھر یہ جہاز زحل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

زحل کے اس چاند کا قطر محض 400 کلومیٹر ہے اور اس کی سطح پر بڑے بڑے پتھروں کے ٹکرانے کے نشانات موجود ہیں۔

اس چاند پر زحل کے دیگر چاندوں کی طرح پانی کی زیرِ سطح موجودگی کی وجہ سے گرم فوارے نظر نہیں آتے۔

پیرس قائم فرانسیسی آبزرویٹری کی جانب سے لکھی گئی رپورٹ کی شریک مصنف ویلیری لائینے نے ”اے پی“ کو بذریعہ ای میل بتایا کہ انہیں اس چاند پر پانی کی بالکل امید نہیں تھی۔

ان کا خیال ہے کہ اس چاند پر زندگی پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے۔

اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سمندر ”میماز“ کے کل حجم کا نصف ہے لیکن میماز چوں کہ بہت چھوٹا سا چاند ہے اس لیے یہ سمندر زمین پر موجود پانی کے حجم کے 1.4 فی صد ہی برابر ہوگا۔

ویلیری لائینے کے مطابق یہ چاند 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ برس پہلے وجود میں آیا تھا اور اس میں موجود پانی نقطہ انجماد سے کچھ ہی گرم ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوسرے مصنف نک کوپر کا کہنا ہے کہ مائع پانی پر مشتمل یہ سمندر جسے وجود میں آئے بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، زندگی کی ابتدا سے متعلق تحقیق کے لیے دلچسپ ہوسکتا ہے۔

Water on Moon

Saturn

Saturn Moon Mimas

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div