کیا خالدہ ضیا کا بیٹا ان کی میراث کو آگے بڑھا سکے گا؟

بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد پارٹی میں ایک بڑے سیاسی امتحان کی شروعات
شائع 01 جنوری 2026 12:32pm

بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلا دیش کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بی این پی کی سربراہ کی وفات صرف قومی سوگ نہیں بلکہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے ایک بڑے سیاسی امتحان کی شروعات بھی ہے، جہاں قیادت اب مکمل طور پر ان کے صاحبزادے اور قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کے کندھوں پر آ گئی ہے۔

ڈھاکا کے اسپتال کے باہر بی این پی کے کارکن، رہنما اور عام شہری خاموشی سے کھڑے دکھائی دیے۔ لوگ آنسو صاف کرتے رہے اور مرحومہ کے لیے دعائیں مانگتے رہے۔ ان کے حامی ریاض العلوم کے مطابق یہ خبر سن کر گھروں میں بیٹھنا ممکن نہ تھا، اس لیے سب لوگ اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔

خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے آئے ہزاروں کارکن شریک ہوئے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما، عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس اور کئی غیر ملکی سفارتکار بھی شریک تھے، جس سے ظاہر ہوا کہ ان کی سیاسی شخصیت ملکی سرحدوں سے کہیں آگے تک اثر رکھتی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی وفات بی این پی کے لیے ایک اہم موڑ ہے، خاص طور پر اس وقت جب 12 فروری کو قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ طویل علالت اور سیاسی غیرفعالیت کے باوجود وہ پارٹی کے لیے اتحاد کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ اب پارٹی مکمل طور پر پوسٹ خالدہ دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں اختیار اور ذمہ داری زیادہ تر طارق رحمان پر مرکوز ہو گئی ہے۔

طارق رحمان کے قریبی مشیر مہدی امین کے مطابق بنگلا دیش نے ایک ’اصل سرپرست‘ کھو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا پارلیمانی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی مضبوط حامی تھیں اور اگر موقع ملا تو بی این پی انہی اصولوں کو آگے بڑھائے گی۔ ان کے مطابق طارق پہلے ہی ایک متحد کرنے والی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں اور وہ انتخابی اصلاحات سمیت 31 نکاتی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خالدہ ضیا کی عدم موجودگی پارٹی کے اندر اس علامتی طاقت کو کم کر دے گی جو اختلافات کو قابو میں رکھتی تھی۔ معروف تجزیہ کار محی الدین احمد کے مطابق خالدہ ضیا کی شخصیت نے طویل عرصہ پارٹی کو متحرک رکھا اور اب یہ تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ طارق رحمان کو اپنی قیادت عملاً ثابت کرنا ہوگی اور آنے والے انتخابات اس سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بنگلا دیش کی سیاست طویل عرصہ تک بی این پی اور عوامی لیگ کی سیاسی کشمکش کے گرد گھومتی رہی۔ مگر عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد سیاسی نقشہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب بی این پی کو نئی جماعتوں اور اتحادوں کا سامنا ہے، جن میں جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد بھی شامل ہے، جو حالیہ عوامی تحریک کے بعد مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔

کچھ مبصرین کے مطابق اب بھی کئی سوالات موجود ہیں: کیا انتخابات وقت پر ہوں گے؟ کیا وہ پُرامن ہوں گے؟ اور کیا عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد ہوگا؟ سیاسی ماہر دلارا چوہدری کے مطابق خالدہ ضیا صرف پارٹی نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک ’سرپرست‘ کا کردار ادا کرتی تھیں اور ان کی موت سیاست میں ایک خلا چھوڑ گئی ہے۔

طارق رحمان کئی سال برطانیہ میں جلاوطنی کے بعد ملک واپس آئے، جب ان کے خلاف مقدمات ختم ہوئے۔ ان کی واپسی کو پارٹی کارکن قیادت کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، مگر ساتھ ہی بعض حلقے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تبدیلی بغیر چیلنجز کے نہیں ہوگی۔ پارٹی کے نوجوان رہنما کمال الدین کے مطابق اختلافات آنے کا امکان رہتا ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ قیادت ان مسائل کو سنبھال لے گی۔

بی این پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صرف وراثت کافی نہیں، کارکردگی اور نتائج ہی پارٹی کا مستقبل طے کریں گے۔ آنے والے انتخابات، نئی صف بندی اور بڑھتی سیاسی کشمکش میں یہی سوال سب سے اہم ہوگا — کیا طارق رحمان واقعی اپنی والدہ کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا پائیں گے، یا بنگلہ دیش کی سیاست ایک نیا رخ اختیار کرے گی؟

Bangladesh Nationalist Party (BNP)

khalida zia

Tarique Rahman

khalida zia legacy