پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر کر دیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سندھ سے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ یہ ریفرنس پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جس میں فلورکراسنگ پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ سیف اللہ ابڑو نے پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دیا، جس کے بعد انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جا چکا تھا۔
پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکال دیا ہے۔
24 دسمبر کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سیف اللہ ابڑو کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
اس سے قبل 10 نومبر کو سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔
سینیٹر نے کہا کہ انہوں نے یہ ووٹ پاک فوج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے احترام میں دیا اور اس فیصلے کی بنیاد ذاتی یا سیاسی مفاد نہیں بلکہ قومی مفاد ہے۔
انہوں نے اس موقع پر یہ بھی بیان دیا کہ پچھلی ترمیم کے دوران ان کے خاندان کے 10 افراد کو اٹھایا گیا، اور اس کے بعد پارٹی نے ان کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھائی۔
سیف اللہ ابڑو کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور وہ مارچ 2021 سے سندھ کی ٹیکنوکریٹس بشمول علما کی نشست پر سینیٹ کے رکن ہیں۔
انہوں نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو سے سول انجینئرنگ میں بی ای کی ڈگری حاصل کی اور مختلف بڑے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیا۔
سینیٹر بننے کے بعد وہ اقتصادی امور کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور مواصلات، ہاؤسنگ، پیٹرولیم، داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کمیٹیوں کے رکن بھی رہے ہیں۔
سیف اللہ ابڑو کے سینیٹر بننے کے بعد ان کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے درکار 20 سال کے تجربے کو ثابت کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کرائیں اور اپنی آمدنی ظاہر نہیں کی۔















